لاہور: حکومت نے وزراء اور کابینہ اراکین کی شدید مخالفت کے بعد شبر زیدی کو چیئرمین ایف بی آر کی جگہ اعزازی چیئرمین شپ دینے کا اعلان کردیا جس کا نوٹی فکیشن بھی جاری کردیا گیا۔
اعزازی چیئرمین شپ لینے والے شبر زیدی کو بغیر تنخواہ کام کرنا ہوگا، میزبان ’’دنیا کامران خان کے ساتھ‘‘ پروگرام کے مطابق عمران خان حکومت کے معیشت اور کاروبار کی بحالی کے حوالے سے شاید کم ہی ایسے فیصلے ہوں گے جن کو کاروباری و تجارتی حلقوں اور سٹیک ہولڈرز کی جانب سے اس انداز میں پذیرائی ملی، جتنی شبر زیدی کو چیئرمین ایف بی آر بنانے کے فیصلے کو حاصل ہوئی، ان تمام حلقوں نے اس فیصلے کو بھرپور سراہا، دانشور حلقوں، معاشی ماہرین اور میڈیا میں اس کی بڑی پذیرائی ہوئی لیکن جیسے ہی یہ فیصلہ سامنے آیا، بیوروکریسی اس کے سامنے دیوار بن کر کھڑی نظر آئی، کم از کم بیوروکریسی کا ایک شعبہ جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ وہی سیکشن ہے جو پاکستان کی کاروباری برادری کو درپیش مسائل کا باعث ہے، جس کی وجہ سے ایف بی آر کرپٹ ترین ادارہ سمجھا جاتا ہے، لگتا ہے ایف بی آر کے اس چھوٹے حلقے نے اس فیصلے کی راہ میں دیوار بن کر کھڑے ہونے کا فیصلہ کیا لیکن ان کی کوشش ناکام ہو گئی۔
تحریک انصاف کے اندرونی حلقوں میں ڈاکٹر باقر رضا اور شبر زیدی کی تعیناتی پر اختلافات کھل کر سامنے آئے، وزیر اعظم کی ضد پر انہیں ایف بی آر میں تعینات کیا گیا۔ اگر ایف بی آر بقول ان کے بزنس مین اور ٹیکس دہندگان کی توقعات پر پورا نہیں اترا تو وہ ایک نئے ایف بی آر کو جنم دیں گے، اس بات کا عہد وہ اقتدار میں آنے سے پہلے اور اس کے بعد بھی کرتے رہے ہیں، واضح طور پر لگتا ہے کہ وزیر اعظم ایف بی آر کو ایک نیا جنم دے رہے ہیں، اسی لئے انہوں نے شبر زیدی کا انتخاب کیا،
وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم نے کہا کہ شبر زیدی کی تقرری پر وفاقی حکومت میں کوئی اختلاف نہیں، انہیں وزیراعظم اور کابینہ کی سلیکشن کمیٹی نے نامزد کیا، شبر زیدی راضی نہیں تھے، ہم نے انہیں منایا، وہ اپنی فرم سے الگ ہو کر اپنا نقصان اور ملک کا فائدہ کریں گے، ان کی تقرری کے مخالفین میرٹ کے خلاف ہیں، شبر زیدی کی تقرری کے پیچھے حکومت ہی نہیں، پورا پاکستان کھڑا ہے، ہر ذی ہوش پاکستانی اس کی مخالفت نہیں کرے گا، ان کی تقرری کئی ناموں پر غور کے بعد کی گئی، ان کا حکومت اور ہم پر احسان ہے کہ وہ ہر چیز چھوڑ کر آ رہے ہیں، شبر زیدی کی تقرری میں قواعد و ضوابط کا پورا خیال رکھا گیا، علی ارشد حکیم کا معاملہ شبر زیدی سے مختلف تھا، مخصوص حالات میں قواعد معطل کر کے تقرری کا قانون موجود ہے۔
فروغ نسیم کا کہنا تھا علی ارشد حکیم کی تقرری اعزازی بنیادوں پر نہیں تھی، حکومت کسی بھی موزوں شخص کو چیئرمین بنا سکتی ہے، شبر زیدی ایف بی آر کو جانتے ہیں اور ٹیکس نیٹ بڑھانا جانتے ہیں، میرے خیال میں شبر زیدی کی تقرری میں قانونی رکاوٹ نہیں،عدالتی فیصلوں کا جائزہ لیا ہے، یہ کیس ہر میرٹ پر پورا اترتا ہے، دیانتدار اور بہترین فرد کو ایف بی آر کا چیئرمین بنایا جا رہا ہے، وزیر اعظم کو جب بتایا گیا کہ اس حوالے سے بیوروکریسی میں کچھ مخالفت نظر آئی ہے تو عمران خان نے کہا اس کا مطلب ہے کہ شبر زیدی بالکل صحیح آدمی ہیں، پاکستان میں میرٹ ہوگا تو ملک ترقی کرے گا، اگر میرٹ نہیں ہوگا تو پھر پاکستان ویسے ہی ہوگا جیسے پہلے تھا، اس میں مفادات کے ٹکراؤ والی کوئی بات نہیں، عدلیہ کے چار فیصلے موجود ہیں کہ مفادات کا ٹکراؤ تب ہوتا ہے جب کسی کا کوئی مفاد ہوگا، شبر زیدی تو اپنا نقصان کر کے آ رہے ہیں، حکومت پر عزم ہے کہ شبر زیدی ضرور آئیں گے۔
دوسری جانب ایف بی آر کے سینئر افسر وزیر اعظم کے مشیر ارباب شہزاد سے ملے اور اپنے تحفظات سے آگاہ کیا جبکہ وزیر اعظم عمران خان سے نامزد چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی نے ملاقات کی جس میں ایف بی آر کے امور پر گفتگو کی گئی، وزیر اعظم نے شبر زیدی کو نئی ذمہ داری، ایف بی آر میں اصلاحات سے متعلق اپنے وژن اور حکومتی پالیسی سے آگاہ کیا، ملاقات میں مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ بھی موجود تھے۔
