Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
Shia missing persons family end sit in near alvi house karachi

شیعہ لاپتہ افراد کا دھرنا اہم پیشرفت کے ساتھ ختم، چار رہا، 27 کا سراغ مل گیا

کراچی: شیعہ لاپتہ افراد کے اہل خانہ کا دھرنا اہم پیشرفت کے بعد اختتام کو پہنچا جبکہ اہل خانہ نے کہا ہے کہ اگر اُن سے کیے گئے وعدے پورے نہ ہوئے تو وہ یوم علی کے جلوس سے دوبارہ دھرنا شروع کردیں گے۔

معروف فلاحی رضا کار جبران ناصر نے بذریعہ ٹویٹ مطلع کیا کہ انہیں دھرنا منتظمین نے اپنا احتجاج ختم کرنے کے حوالے سے مطلع کیا اور بتایا کہ 27 لاپتہ نوجوانوں کا سراغ لگا لیا گیا۔

لاپتہ شیعہ نوجوانوں میں سے 11 کو انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا گیا، چار ایسے گمشدہ نوجوان تھے جن کے خلاف ملٹری کورٹس میں مقدمات زیر التوا تھے انہیں ملیر پولیس کے حوالے کیا گیا جبکہ 12 نوجوانوں کو رہا کردیا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ 8 مزید لاپتہ نوجوان کل تک رہا کردیے جائیں گے۔ دوسری جانب مسنگ پرسن کمیٹی کے رہنما راشد رضوی نے فیس بک پوسٹ کے ذریعے اطلاع دی کہ تین سال سے جبری طور پر گمشدہ ہونے والے چار نوجوانوں کو رہا کردیا گیا۔

’’زاہد حیدر کشمیری، سید نعیم حیدر نجفی، سید حسین احمد، سید شیراز حیدرکو ملٹری کورٹس سے پولیس کے حوالے کردیا گیا، اُن کے اہل خانہ کو ملاقات کی اجازت بھی مل گئی، کل بروز ہفتہ 8 نوجوان مزید بازیاب ہوجائیں گے اور یہ سلسلہ اب جاری رہے گا‘‘۔

انہوں نے بتایا کہ اعلیٰ ترین ریاستی اداروں سے براہ راست مذاکرات کامیاب رہے جس کے نتیجے میں یہ اہم پیشرفت سامنے آئی، 32 گمشدہ نوجوانوں کو مسنگ پرسن کمیٹی کے آواز اٹھانے پر رہا کیا جاچکا ہے‘‘۔

علاوہ ازیں جنگ اخبار کے رپورٹر کو پولیس نے پڑوسی ملک سے تربیت یافتہ قرار دے کر گزشتہ دنوں گرفتاری ظاہر کی اور اب وہ جیل میں ہیں۔ یاد رہے کہ مسنگ پرسنز کے اہل خانہ نے پی ای سی ایچ ایس میں واقع ڈاکٹر عارف علوی کی رہائش گاہ کے باہر گزشتہ 12 روز سے دھرنا دیا ہوا تھا، اس دوران 250 سے زائد مظاہرین اور متنظمین کے خلاف بہادرآباد تھانے میں مقدمہ بھی درج کیا گیا تھا۔

لاپتہ افراد کے خاندانوں‌ کے دکھ میں‌ برابر کے شریک ہیں، آصف غفور