اسلام آباد میں زیادتی کا نشانہ بننے والی 10 سالہ بچی فرشتہ مہمند کے قتل کے خلاف ہونے والے احتجاج میں گلالئی اسماعیل نے تقریر کی اور انہوں نے معاملے کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش کی۔
سوشل میڈیا پر پی ٹی ایم رہنما کی ویڈیو بھی وائرل ہوئی جس کی صارفین نے شدید الفاظ میں مذمت کی اور کہا کہ فرشتہ کیس میں فوج کہاں سے ملوث ہے اور اس میں عصبیت کا عنصر کہاں سے آگیا جبکہ اس معاملے پر پورا ملک ننھی بچی کے ساتھ ہے۔
تحریک انصاف کی رہنما کے خلاف اسلام آباد کے تھانہ شہزاد ٹاؤن میں دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیا جس میں بتایا گیا ہے کہ انہوں نے اپنی تقریر میں پاک فوج پر الزام عائد کی اور ریاست کی کھل کر مخالفت کی جبکہ پختونوں کے جذبات کو بھی اکسایا۔
پولیس حکام کے مطابق گلالئی اسماعیل نے فرشتہ کیس کی آڑ میں حکومت کے خلاف ہرزہ سرائی کی جبکہ انہوں نے پشتون قوم کو عصبیت کی طرف ورغلانے کی بھی کشش کی۔ ایف آئی آر کے متن میں کہا گیا ہے کہ گلالئی اسماعیل نے پاک فوج کے خلاف بھی ہرزہ سرائی کی۔ مقدمہ اسلام آباد کے شہری درخواست پر درج کیا گیا۔
