اسلام آ باد:اسلامی نظر یاتی کونسل کے چیئرمین قبلہ ایاز نے دو ٹوک مؤقف پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ قمری کیلنڈر کی شرعی حیثیت کے بارے میں فیصلہ عید کے بعد کیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق چیئرمین اسلامی نظر یاتی کونسل کا موقف ہے کہ یہ فیصلہ شعبہ تحقیق اور علما ء کی را ئے کے باعث عید سے پہلے فیصلہ ممکن نہیں ہے۔ یہ غور طلب معاملہ ہے جس پر علماء کی رائے بغیر حتمی رائے نہیں دے سکتے ۔ قمری کیلنڈر اپنی جگہ لیکن عید اور روزے کیلئے رویت ضرروی ہے۔
دوسری جانب وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی قمری کلینڈر کا اجرا کرچکے جس میں بتایا گیا ہے کہ ملک بھر میں عید پانچ جون کو منائی جائے گی، چیئرمین رویت ہلال کمیٹی سمیت دیگر علماء قمری کلینڈر کے معاملے پر فواد چوہدری کے خلاف میدان میں آگئے ہیں۔
مفتی پوپلزئی نے فواد چوہدری کے قمری کلینڈر پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’وزیرصاحب اس کلینڈر کا اطلاق رمضان اور عیدین پر نہ کریں، ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں البتہ حدیث کی رو سے رمضان، عید اور عیدالضحیٰ کا چاند آنکھوں سے دیکھ کر ہی مہینہ شروع کیا جائے گا‘‘۔
پشاور کی مسجد قاسم خان کی غیر سرکاری رویت ہلال کمیٹی کے سربراہ مفتی شہاب الدین پوپلزئی نے کہ ہے کہ انہیں اسلامی کیلنڈر کی ایپ لانچ کرنے پر کوئی اعتراض نہیں ہے مگر اسے رمضان اور عید الفطر کے لئے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔
”مجھ سے کسی نے اسلامی کیلنڈر کے سلسلے میں رابطہ نہیں کیا لیکن میں یہ کہوں گا کہ رمضان اور عید الفطر شریعت کے احکامات کے مطابق چاند دیکھنے کے بعد کیے جانے چاہئیں۔ “
مفتی شہاب الدین پوپلزئی نے کہا کہ غیر سرکاری رویت ہلال کمیٹی 29 رمضان کو مسجد قاسم خان پر میٹنگ کرے گی اور اگر اسے رویت ہلال کی قوی شہادتیں موصول ہوئیں تو عید الفطر کا اعلان کر دے گی۔ ”ہم اسلامی کیلنڈر کی لانچنگ کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ اسے سرکاری دفاتر، عوامی مقامات اور گھروں میں آویزاں کیا جانا چاہیے تاکہ اسلامی قمری مہینوں کا اور ان کی اہمیت کا پتہ چلے۔ “
