دہشت گردی کی حالیہ لہر سے پاکستانی معیشت کو جھٹکا

کراچی: ملک کے چاروں صوبوں میں یکے بعد دیگرے ہونے والے دہشت گرد حملوں کی وجہ سے پاکستان بھر کے تجارتی مراکز میں اداسی چھائی ہوئی ہے۔

لوگوں کو واٹس ایپ اور موبائل پر نامعلوم الرٹ پیغامات موصول ہونے کے بعد ملک کے بڑے شہروں کراچی، لاہور، اسلام آباد، راولپنڈی، پشاور اور کوئٹہ کے بڑے تجارتی مراکز اور شاپنگ مالز میں ہفتہ 18 فروری کے بعد سے ویرانی نظر آئی۔

ان پیغامات میں سے کچھ پیغامات کو پاک فوج کے شعبہ تعلقات عام (آئی ایس پی آر) سے بھی منسوب کیا گیا، جن میں عوام کو خبردار کرتے ہوئے پرہجوم مقامات سے دور رہنے کے لیے کہا گیا تھا۔

کراچی کی مختلف مارکیٹوں کے تاجر نے ملک بھر میں فائرنگ، خود کش دھماکوں اور کریکر حملوں کی تازہ لہر کی وجہ سے کاروبار میں مندی کی شکایت کر رہے ہیں۔

چیئرمین آل کراچی تاجر اتحاد ( اے کے ٹی آئی) میر عتیق الرحمٰن نے بتایا کہ آئی ایس پی آر سے منسوب واٹس ایپ اور موبائل فون کے وائرل پیغامات لوگوں کو خوف زدہ کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے مارکیٹوں میں مندی کا رجحان دیکھا جارہا ہے۔

میر عتیق الرحمٰن نے دعویٰ کیا کہ کراچی کے تمام کاروباری مراکز میں 2 ہفتے قبل تیزی دیکھی گئی تھی، مگر اب ان سرگرمیوں میں 20 سے 30 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ گارمنٹس کے کئی بڑے اسٹورز موسم سرما کے کپڑوں پر 60 فیصد سے زائد سیل کی پیش کش کرنے کے باوجود صارفین کی توجہ حاصل کرنے میں ناکام ہیں۔

چیئرمین تاجر اتحاد کے مطابق خریداری کے لیے صرف وہ لوگ بے خوف آر ہے ہیں جنہیں سامان کی ضرورت ہے، خاص طور پر شادی بیاہ کے سلسلے میں خریداری کے لیے لوگ آرہے ہیں۔

آل پاکستان انجمن تاجران (اے پی اے ٹی) کے سیکریٹری جنرل عبدالرزاق بابر نے ڈان کو بتایا کہ لاہور کے مال روڈ پر ہونے والے خودکش دھماکے کے بعد لاہور کی مشہور مارکیٹوں میں مختلف اشیاء کی فروخت میں 30 سے 35 فیصد تک کمی واقع ہوئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کچھ دن قبل پاک-افغان سرحد بند ہونے کی وجہ سے گارمنٹس، لنڈے کے کپڑوں اور جوتوں کی فروخت کافی کم ہوئی ہے اور بہت سارا اسٹاک فروخت نہیں ہوسکا۔

انجمن تاجران بلوچستان کے جنرل سیکریٹری اللہ داد ترین کے مطابق بنیادی طور پر ان کے صوبے کے تاجر کراچی، لاہور اور فیصل آباد سے اشیاء کی خریداری کرتے ہیں، جس کے بعد یہ سامان افغانستان بھیجا جاتا ہے، جہاں شاید ہی کوئی صنعت موجود ہو۔

ان کے مطابق کراچی، بلوچستان اور پشاور کے تاجر افغانستان بھیجے جانے والے سامان میں مڈل مین کا کردار ادا کرتے ہیں، تاہم پاک-افغان سرحد بند ہونے کی وجہ سے کاروباری سرگرمیاں بھی رک گئی ہیں۔

اللہ داد کا کہنا تھا کہ حکومت کو فیصلہ لینے سے قبل کاروباری کمیٹیوں کو اعتماد میں لینا چاہیئے تھا۔

انجمن تاجران راولپنڈی کے مرکزی صدر اور آل پاکستان تاجر اتحاد کے چیئرمین شرجیل میر کے مطابق خریداروں کی جانب سے مارکیٹوں کا دورہ نہ کرنے کی وجہ سے راولپنڈی کے کاروباری حضرات اپنی فروخت میں 60 فیصد کمی کا سامنا کر رہے ہیں۔

آل حیدری تاجر ویلفیئر ایسوسی ایشن کے سید محمد سعید کا کہنا تھا کہ لوگوں کو پرہجوم مقامات پر جانے سے گریز کرنے والے پیغامات کے بعد نارتھ ناظم آباد کے تاجروں کو بھی 60 فیصد کم فروخت کا سامنا ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ اس وقت صرف ایک یا 2 لوگ ضروری سامان کی خریداری کے لیے آ رہے ہیں۔

چیئرمین اللہ والا مارکیٹ ایسوسی ایشن محمد آصف کے مطابق جامعہ کلاتھ اور اللہ والا مارکیٹ میں 40 فیصد کم فروخت ریکارڈ کی گئی۔

صدر کے بوہری بازار اور موچی گلی مارکیٹ کے صدر منصور جیک نے بتایا کہ 2 ہفتوں کے برعکس اس وقت فروخت کی سطح 25 فیصد کم ہوگئی ہے۔

بہادر آباد ٹریڈرز ایسو سی ایشن کے رکن عمران سعید باغ پتی کا کہنا ہے کہ خریداروں کی کم آمد کی وجہ سے فروخت میں 60 فیصد کمی ہوئی ہے۔

گلف شاپنگ سینٹر کلفٹن میں موجود ایک بوتیک سینٹر کے مالک آصف حسین کے مطابق خصوصی طور پر سیہون دھماکے کے بعد فروخت میں 50 فیصد کمی ہوئی۔

یہ خبر 21 فروری 2017 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی

اپنا تبصرہ بھیجیں:

اپنا تبصرہ بھیجیں