Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
جناح‌ پو کا نقشہ ڈرامہ تھا، اعلیٰ‌ عسکری عہدیداران کا انکشاف | زرائع نیوز

جناح‌ پو کا نقشہ ڈرامہ تھا، اعلیٰ‌ عسکری عہدیداران کا انکشاف

جناح‌ پو کا نقشہ ڈرامہ تھا، اعلیٰ‌ عسکری عہدیداران کا انکشاف

راولپنڈی: انٹیلی جنس بیورو کے سابق سربراہ بریگیڈیئر ریٹائرڈ امتیاز نے کہا ہے کہ جناح پور کے نقشے کی برآمدگی ڈرامہ محض قوم میں نفاق اور نفرت ڈالنے کی سازش تھی جبکہ سابق کور کمانڈر کراچی جنرل نصیر اختر کا کہنا تھا کہ جناح پور کے نقشے کا الزام دو روز بعد واپس لے لیاگیا تھا۔

اے آر وائی نیو ز کے پروگرام سوال یہ ہے میں میزبان ڈاکٹر دانش کے ہمراہ گفتگو کرتے ہوئے بر یگیڈیئر ریٹائرڈ امتیاز نے انکشاف کیا کہ انیس سو بانوے کے فوجی آپریشن کے دوران جناح پور کا نقشہ ملنے کی کہانی محض ڈرامہ تھی ،ایم کیو ایم کے کسی دفتر سے کوئی نقشہ نہیں ملا تھا ۔ ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف ایم کیو ایم کیخلاف آپریشن روک سکتے تھے لیکن انہوں نے ایسا اقدام نہیں کیا۔

بریگیڈیئر ریٹائرڈ امتیاز کا کہنا تھا کہ تمام فیصلوں سے اس وقت کے آرمی چیف، صدر اور وزیراعظم کو آگاہ کیا گیا تھا۔ بریگیڈیئر ریٹائرڈ امتیاز نے کہا کہ آئی جے آئی انہوں نے نہیں بلکہ غلام اسحاق خان اور اسلم بیگ نے بنائی تھی اور تمام ساز شوں کیلئے پیشہ ایوان صدر سے ملتا تھا ۔

دوسری جانب 1992 میں تعینات ہونے والے سابق کور کمانڈر کراچی بر یگیڈیئر ریٹائرڈ نصیر اختر نے کہاکہ ایم کیو ایم کے دفتر جناح پور کے نقشے ملنے کا انہیں کوئی علم نہیں اور دو دن بعد اسکی تردید کرتے ہو ئے نقشہ واپس لے لیا گیا تھا۔ انہوں نے کہاکہ ا یم کیو ایم والے ان کے بھائی ہیں اور ان سے ان کی کوئی ذاتی دشمنی نہیں تھی ۔

بریگیڈیئر امتیاز کے ٹی وی انٹرویو کے بعد ایم کیو ایم نے شاندار جشن منایا تھا جبکہ اپوزیشن اور مخالف جماعتوں نے یہ الزام عائد کیا تھا کہ بلال امتیاز سے یہ بات دباؤ میں کہلوائی گئی۔

یاد رہے کہ سندھ میں 92 کو 72 مچھلیوں کے نام پر ایک آپریشن کا آغاز کیا گیا تھا، جس کے شروع ہوتے ہی ایم کیو ایم کے دفتر پر چھاپہ مار کر علیحدہ وطن جناح پور بنانے کا الزام عائد کرتے ہوئے نقشے برآمد کرنے کا دعویٰ کیا گیا تھا، ریاستی آپریشن اور سرکاری سرپرستی سے بننے والی جماعت حقیقی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ہاتھوں 17 ہزار سے زائد نوجوان مارے گئے تھے۔

ایم کیو ایم میں شمولیت کے بعد سینئر رہنما اور ڈپٹی کنونیئر عامر خان نے بھی انکشاف کیا کہ وہ 92 میں اسٹیبشلمنٹ کے ہاتھوں استعمال ہوئے۔