Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
کراچی:‌ پی ٹی آئی رکن اسمبلی کا کاررنامہ، 6 ماہ میں 200 غیر قانونی تعمیرات،30 کروڑ بھتہ وصول | زرائع نیوز

کراچی:‌ پی ٹی آئی رکن اسمبلی کا کاررنامہ، 6 ماہ میں 200 غیر قانونی تعمیرات،30 کروڑ بھتہ وصول

کراچی: شہری قائد کے علاقے لیاری سے منتخب ہونے والے تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی شکور شاد پر الزام عائد ہوا ہے کہ انہوں نے اپنے حلقے میں اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے قبضہ کر کے غیر قانونی عمارتیں تعمیر کروائیں۔

ذرائع نیوز کو ملنے والی اطلاعات کے مطابق شکور شاد نے اپنے مبینہ فرنٹ مین یاسر بلوچ کے ذریعے کمزور لوگوں کے گھروں پر قبضہ کروایا اور پولیس و ڈپٹی کمشنر کی گاڑیوں کا استعمال کرتے ہوئے 30 کروڑ روپے بھتہ جمع کیا۔

حلقے میں صرف 6 ماہ کے اندر 200 سے زائد غیر قانونی عمارتیں تعمیر کی گئیں، کسی بھی بلڈر سرکاری اداروں سے اجازت لینے کے  باوجود رکن قومی اسمبلی سے اجازت لینا ضروری ہوگیا جبکہ یہ بھی اطلاع سامنے آئی کہ لیاری میں فرنٹ مین کے زریعے پانچ علاقوں سے کروڑوں روپے بھتہ جمع کیا گیا۔

رکن اسمبلی کے مبینہ فرنٹ مین نے پولیس اور ڈپٹی کمشنر کی گاڑیاں استعمال کرتے ہوئے موسیٰ لین، آگرہ تاج، بہار کالونی، مرزا آدم خان روڈ، چاکیوڑہ سے نہ صرف بھتہ لیا بلکہ یہاں غیر قانونی تعمیرات بھی کروائیں۔ ذرائع کے مطابق ایک اجلاس میں شکور شاد نے بلڈرز پر واضح کیا کہ عمارت کی تعمیر کی اجازت لینے کے لیے 15 لاکھ روپے بھتہ ادا کرنا ہوگا۔

علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ رکن اسمبلی بننے سے قبل بھی شکور شاد بلڈر لائن سے منسلک تھے اور اُن کے غیر قانونی پروجیکٹ چل رہے ہیں تاہم انہوں نے انہیں مکمل کر کے اب بلدڑز کی سرپرستی کرنا شروع کردی، سپریم کورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی پر رکن اسمبلی کا موقف ہے کہ لیاری پر عدالتی حکم لاگو نہیں ہوتا، ہم لوگوں کو سستے داموں گھر فراہم کررہے ہیں۔

دوسری جانب رکن قومی اسمبلی نے وضاحت کی ہے کہ اُن کا غیر قانونی تعمیرات سے کوئی لینا دینا نہیں اور یاسر بلوچ کوارڈینیٹر ضرور ہیں تاہم وہ لیاری کے بجائے اسلام آباد میں رہائش پذیر ہیں، انہوں نے کہا کہ مجھے عزیر بلوچ نہ سمجھا جائے۔