Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6170
پی پی وڈیرے کا ظلم منظر عام پر لانے والے 15 صحافیوں‌ کے خلاف دہشت گردی کے مقدمات | زرائع نیوز

پی پی وڈیرے کا ظلم منظر عام پر لانے والے 15 صحافیوں‌ کے خلاف دہشت گردی کے مقدمات

سکھر: پاکستان یونین آف جرنلسٹ نے سندھ کے شہر پنو عاقل میں پیپلزپارٹی کے وڈیرے کی جانب سے صحافیوں کے خلاف دہشت گردی کے مقدمات درج کروانے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

عمران جونیئر کی رپورٹ کے مطابق پی ایف یوجے سندھ کے شہر پنوعاقل میں حکمران جماعت کے وڈیرے کی جانب سے تشدد اور مقامی پولیس کی جانب سے صحافیوں کے خلاف جھوٹا مقدمہ درج کیا گیا۔

پی ایف یو جے کی قیادت نے اسلام آباد میں (پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ) پی آئی ڈی آفس میں وزیر اعظم کی مشیر اطلاعات اور ان کے اسٹاف کی جانب سے صحافیوں کے ساتھ غیر شائستہ رویہ کو بھی افسوسناک قرار دیا۔

صحافتی تنظیم کے صدر جی ایم جمالی اور سیکریٹری جنرل رانا محمد عظیم  نے پنوں عاقل اور سندھ پولیس سے مطالبہ کیا ہے کہ جن   15 صحافیوں کے خلاف جھوٹے مقدمے بنائے گئے ہیں انہیں فوری ختم کیا جائے اور تمام صحافیوں کو فی الفور رہا کیا جائے۔

صحافتی عہدیداران نے واضح کیا کہ پنوعاقل ڈسٹرکٹ سکھر پیپلزپارٹی کے وڈیرے ڈاکٹر آفتاب سومرو کی جانب سےہمارے صحافیوں  حضرت گل پٹھان، عاشق جتوئی، راجارستم انڈھڑ، الطاف کلوڑ کو اغوا کیا اور انہیں تشدد کا نشانہ بنایا، ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر کے قانونی کارروائی کی جائے۔

انہوں نے پولیس سے مطالبہ کیا کہ وہ گرفتار صحافی راجا رستم، حضرت گل پٹھان، ارشاد رستم، شمیر سمیجو، الطاف کلوڑ،ندیم بوزدارسمیت دیگر پندرہ صحافیوں کے خلاف سیون اے ٹی اے کا پرچہ خارج کرے اور غیرجانبدار انکوائری کرے ورنہ پولیس رویہ کے خلاف کراچی سمیت ملک بھر میں احتجاج کیاجائے گا۔

پی ایف یو جے لیڈرشپ نے وفاقی وزیر فردوس عاشق اعوان سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے رویہ پر معذرت کریں اور صحافیوں پر جمہوری حکومت میں ڈکٹیٹرشپ کے ہتھکنڈوں کا تدارک کرے ورنہ صحافی ماضی کی طرح اپنے حقوق حاصل کرنے کے لئے ملک گیر تحریک چلا کر ایسے غیر جمہوری ہتھکنڈوں سے نمٹنے کا حوصلہ اور ہمت رکھتے ہیں لہذا مستقبل میں ایسے رویہ سے باز رہا جائے۔۔