کراچی میں ہونے والی مون سون بارشوں کے دوران کرنٹ لگنے سے 20 کے قریب شہریوں کی قیمتی جانیں ضائع ہوئیں جس کے بعد شہریوں نے انتظامیہ کے خلاف مقدمات درج کرانا شروع کردیے۔
کے الیکٹرک کے خلاف دو روز میں دوسرا مقدمہ درج کرلیا گیا جس میں قتل، اقدام قتل اور غلفت کی دفعات شامل ہیں، دوسری جانب جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا ہے کہ متاثرہ خاندانوں کو کے الیکٹرک کی جانب سے معاوضہ دلوایا جائے۔
دوسری جانب نیپرا نے کے الیکٹرک سمیت دیگر اداروں کو نوٹس جاری کردیے، تیموریہ تھانے میں درج مقدمے میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ اگر جرم ثابت ہوجائے تو کے الیکٹرک دیت کا ذمہ دار ہے۔


