جمعیت علماء اسلام ف کا آزادی مارچ گزشتہ شب اسلام آباد پہنچ گیا اور اب امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ مولانا دھرنا دیں گے۔
کراچی سے 27 اکتوبر کو چلنے والا آزادی مارچ سندھ اور پنجاب کے مختلف علاقوں سے ہوتا ہوا کل اسلام آباد پہنچا، اس دوران شرکا بالکل پرامن رہے اور کوئی بھی پتہ نہ ٹوٹا، مولانا کا دعویٰ ہے کہ اُن کے ساتھ پانچ لاکھ سے زائد افراد موجود ہیں۔
سینئر صحافی عاصمہ شیرازی کا کہنا ہے کہ انہوں نے گزشتہ سالوں میں ہونے والے جلسوں میں اتنا رش نہیں دیکھا جتنا آزادی مارچ ہے، ایک روز قبل غریدہ فاروقی بھی انٹرویو لینے کے لیے کاررواں میں شریک ہوئیں اور انہوں نے سر سے دوپٹہ اوڑھ کر انٹرویو کیا۔
#ٹوئکر
دو خواتین صحافیوں کے مطابق انہیں جمعیت علمائے اسلام ف کے آزادی مارچ کی کوریج کرنے سے روک دیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ آزادی مارچ میں خواتین شرکت نہیں کر رہیں۔ pic.twitter.com/ymZUvqKUCo— Independent Urdu (@indyurdu) November 1, 2019
خواتین رپوٹرز جب دھرنے کی کوریج کے لیے جلسہ گاہ پہنچیں تو وہاں موجود کارکنان اور سیکورٹی نے انہیں جلسہ گاہ میں داخل ہونے سے روک دیا۔ جے یو آئی ف کے سیکورٹی رضا کاروں نے کہا کہ خواتین جلسہ گاہ میں داخل نہیں ہو سکتیں اور خواتین رپورٹرز دھرنے کی کوریج بھی نہیں کر سکتیں۔
دوسری جانب جمعیت علماء اسلام ف کے سینئر رہنما اور سینیٹر مولانا غفور حیدری نے اعلان کیا کہ خواتین رپورٹرز جلسے کی اب کوریج کرسکتی ہیں۔
Senator Maulana Abdul Ghafoor Haideri announced from Azadi March stage that women journalists should not be stopped from covering the march and treat all women with respect no ban on entry of women in dharna
— Hamid Mir حامد میر (@HamidMirPAK) November 1, 2019
