اسلام آباد: سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کے خلاف دائر آئین شکنی کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا گیا جو 28 نومبر کو سنایا جائے گا۔
یاد رہے کہ پرویزمشرف کے خلاف سنگین غداری کا کیس خصوصی عدالت میں دائر تھا جہاں 6 سال تک سماعتوں کا سلسلہ جاری رہا اور اب تین رکنی بینچ جس کی سربراہی جسٹس وقار سیٹھ کررہے ہیں نے منگل کے روز دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا۔
ملٹری ڈکیٹیٹر کے خلاف مسلم لیگ ن نواز نے مقدمہ 2013 میں دائر کیا تھا جس میں بتایا گیا تھا کہ مشرف نے 2007 میں آئین کی خلاف ورزی کر کے ملک سے غداری کی، اور منتخب وزیراعظم نوازشریف کو عہدے سے طاقت کے زور پر برطرف کیا۔
یہ بھی یاد رہے کہ عدالت نے مشرف اور اُن کے وکیل کو متعدد بار صفائی پیش کرنے کا موقع دیا البتہ سابق آرمی چیف نے عدالت میں پیش ہونے تک کی زحمت نہ کی، اس دوران اُن کی پراپرٹی بھی ضبط کی گئی مگر وہ پیش نہ ہوئے۔
