کراچی: شہر قائد کے علاقے اورنگی ٹاؤن کے وائٹ ہاؤس گرامر اسکول میں ٹائیفڈ کا انجیکشن لگانے سے متعدد بچوں کی حالت غیر ہوگئی۔
سندھ حکومت کی جانب سے شروع ہونے والی ٹائیفائیڈ مہم کے پہلے مرحلے میں ٹیم کے اراکین اورنگی ٹاؤن کے وائٹ ہاؤس اسکول پندرہ سال تک کے بچوں کو ٹیکے لگانے پہنچے، اسی دوران متعدد بچوں کی حالت خراب ہوئی اور ان کا سانس رک گیا۔
ایس ایس پی شوکت کھٹیان نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ویکسین لگنے کے بعد بچوں کی حالت غیر ہوئی، متاثرہ طالب علموں کو طبی امداد کے لیے قریبی اسپتال منتقل کیا جارہا ہے۔ اسکول انتظامیہ نے پہلے واقعے کو چھپانے اور ٹیم کو بھگانے کی کوشش کی البتہ اس میں ناکامی رہی، لاپرواہی اور غفلت کی وجہ سے والدین میں شدید اشتعال پایا جاتا ہے۔
ایک طالب علم کے پڑوسی محمد نسیم نے بتایا کہ بچوں کو ویکسین لگنے کے بعد سانس لینے میں دشواری ہوئی جبکہ انہیں شدید گھبراہٹ کی بھی شکایت ہوئی۔ کافی دیر کے بعد ایدھی اور چھیپا کی ایمبولینسوں کو طلب کر کے بچوں کو قطر اور عباسی شہید اسپتال منتقل کیا گیا۔ ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ بچوں کی حالت خطرے سے باہر ہے البتہ والدین نے الزام عائد کیا ہے کہ اُن کے بچوں کو تجربے کے لیے ویکسین لگائی گئی۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز محکمہ صحت کے ڈاکٹر ظفر مرزا نے دعویٰ کیا تھا کہ مذکورہ ویکسین ملکی تاریخ میں پہلی بار تیار کی گئی اور جاری مہم میں یہ ملک کے دس لاکھ سے زائد بچوں کو لگائی جائے گی۔
