Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
کراچی لاک ڈاؤن میں‌ ناکامی، کامیابی کے لیے مصطفیٰ کمال کو آزما کر دیکھیں..... تحریر سید محبوب احمد چشتی | زرائع نیوز

کراچی لاک ڈاؤن میں‌ ناکامی، کامیابی کے لیے مصطفیٰ کمال کو آزما کر دیکھیں….. تحریر سید محبوب احمد چشتی

مصطفیٰ کمال کراچی لاک ڈاؤن کی کامیابی کی کنجی ثابت ہوسکتے ہیں

شہر قائد میں لاک ڈاؤن ہوئے 25 سے زائد روز ہوچکے ہیں مگر عوام ہے کہ وہ گھروں سے باہر نکلنے سے باز نہیں آرہے، بازار، سڑک، گلی محلے جوں کے توں آباد ہیں، ضلع وسطی ہو یا مضافاتی علاقے ہر جگہ ہی ایک سی صورت حال کا سامنا ہے، سندھ حکومت لوگوں سے ہاتھ جوڑ جوڑ کر اپیل کرچکی مگر وہ سننے پر راضی نہیں ہیں۔

اب صورت حال یہ ہے کہ کراچی میں کرونا کی مقامی منتقلی کے کیسز تیزی سے رپورٹ ہورہے ہیں، جس بات کا ڈر تھا وہ بھی کل ہوگیا، کچی آبادی میں ایک ہی گھر کے 6 افراد کرونا کا شکار ہوگئے جن میں ایک سال کی بچی اور 6 سالہ بچی بھی شامل ہے، یہ سب سمجھانے کے باوجود بھی عوام حکمرانوں کو سنجیدہ نہیں لے رہے۔

اس مسئلے کا حل کیسے نکالا جائے؟ ڈنڈے کے ذریعے تو حکومت نے کوشش کرلی، پولیس ناکام ہے اور تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ عوام پولیس کی اُس طرح عزت نہیں کرتے جیسے کرنا چاہیے، دیگر ادارے پولیس کی معاونت کے لیے سڑکوں پر ہیں اور جب انہوں نے تھوڑی سی سختی کی تو اُن کی ویڈیوز انٹرنیٹ پر وائرل کی گئیں۔

میرے نزدیک مسئلے کا حل صرف ایک ہے، وہ یہ کہ آپ کسی ایسے شخص کو لاک ڈاؤن میں ملوث کریں جو عوام کو اُس کے گھر کی دہلیز پر جاکر اس کی اہمیت بیان کرے، عوام جسے جانتے ہوں، جس نے ماضی میں کام کیا ہوا ہو، جس کے کارکنان علاقوں میں رہتے ہوں۔

ماضی کی کارکردگی کو دیکھتے ہوئے مصطفیٰ کمال کو اس کام کے لیے منتخب کیا جائے کیونکہ وہ اس معاملے پر زیادہ سنجیدگی دکھا رہے ہیں، پی ایس پی کے چیئرمین نے سب سے پہلے سندھ اور وفاقی حکومت کو اپنے ہزاروں رضاکار دینے کی پیش کش کی، اُس کے بعد دیگر جماعتیں آگے بڑھیں اور انہوں نے پی ایس پی قائد کی طرح حکومتوں کو پیش کش کی۔

مصطفیٰ کمال کی ہدایت پر پی ایس پی کے کارکنان سفید پوش اور مستحقین کے گھروں پر رات کی تاریکی میں بغیر کسی تشہیر کے راشن پہنچا رہے ہیں،یہ خدمت بنا کسی رنگ و نسل کی تمیز کے کی جارہی ہے۔

سندھ حکومت نے اگر یہ ذمہ داری پی ایس پی کے قائد کو دے دی تو صورت حال اور لاک ڈاؤن میں کامیابی نظر آسکتی ہے، کیونکہ جس جگہ پر حکومتی احکامات کی خلاف ورزی ہورہی ہوگی وہ وہاں خود پہنچ جائیں گے اور عوام کو سمجھائیں گے، پھر بھی اگر نہ مانیں تو کراچی کے لوگ مصطفیٰ کمال کے جذبات اور غصے سے تو بخوبی واقف ہیں، کچھ نوجوانوں کو اس کی اشد ضرورت ہے اور جب مثال قائم ہوگی تو دوسرے خود ہی احکامات پر عمل کریں گے۔