توہین رسالت کے جھوٹے الزام میں شرپسند عناصر کے ہاتھوں قتل ہونے والے نوجوان طالب علم مشال خان کی آج تیسری برسی منائی جارہی ہے۔
عبدالولی خان یونیورسٹی کے شعبہ ابلاغ عامہ کے 25 سالہ طالب علم کو اسلامی طلبہ تنظیموں اور یونیورسٹی کے دیگر شرپسندوں نے اُس کے کمرے میں بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کیا، والدہ نے بتایا تھا کہ جب انہوں نے بیٹے کے ہاتھ چومے تو تمام ہڈیاں ٹوٹی ہوئی تھیں۔
مشال خان کا کیس انسداد دہشت گردی کی عدالت میں زیر سماعت رہا جہاں عدالت نے 26 ملزمان کو سزا سنائی البتہ انہوں نے ہائی کورٹ میں درخواست دے کر ضمانت حاصل کی۔ ملزمان جب رہا ہوکر اپنے علاقوں میں پہنچے تو جماعت اسلامی کے کارکنان نے اُن کا پرتپاک استقبال کیا۔
مشال خان کو تیسری برسی کے موقع پر خراج تحسین پیش کیا جارہا ہے اور سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر #RememberingMashalKhan ہیش ٹیگ ٹرینڈ کررہا ہے، صارفین انہیں یاد کر کے اپنے اپنے جذبات کا اظہار کررہے ہیں۔
https://twitter.com/Shakirlemar/status/1249443827267633154?s=20
https://twitter.com/Muzamil514/status/1249585158153539589?s=20
