Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6170
پتنگ اب کس کی ڈور سے اڑے گی؟ | زرائع نیوز

پتنگ اب کس کی ڈور سے اڑے گی؟

MQM senate Elections PPP Pti
MQM senate Elections PPP Pti
MQM senate Elections PPP Pti

پتنگ اب کس کی ڈور سے اڑے گی؟

ملک کے بدلتے سیاسی ماحول اور سینیٹ انتخابات کے میلے نے پتنگ کی اہمیت میں کافی اضافہ کردیا ہے۔ کبھی پی ٹی آئی اور کبھی پیپلزپارٹی بہادرآباد کا رخ کرتی نظر آرہی ہیں۔

اس صورحال میں ایم کیو ایم اپنی اہمیت کو اچھی طرح سے جانتی ہے شاید اس ہی لیئے ان کی طرف سے ابھی تک کوئی مکمل فیصلہ سامنے نہیں آیا۔

جہاں وفاقی حکومت کی اتحادی جماعت ایم کیو ایم کو یوسف رضا گیلانی کی حمایت کے بدلے دو سینیٹرز بنوانے کی پیپلزپارٹی پیش کش کر چکی ہے، وہیں تحریک انصاف سے اپنے مطالبات پورے ہونے کی بھی کچھ امیدیں باقی ہیں۔

جہاں وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید کو ایم کیو ایم کی جانب سے سینیٹ انتخابات میں ساتھ ملنے کی امید ہے، وہیں آج چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نے مولانا فضل رحمان کے ساتھ پریس کانفرس کرتے ہوئے ایم کیو ایم کو پی ڈی ایم میں شمولیت کی دعوت دی ہے۔

اس تمام صورتحال میں ایم کیو ایم کی جانب سے سینیٹ کے لیئے نامزد امیدوار فیصل سبزواری کافی متحرک نظر آرہے ہیں، ایک پروگرام میں وسیم بادامی کے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ سینیٹ انتخابات میں ایم کیو ایم کا کوئی رکن اسمبلی نہیں بکے گا۔

پنجاب میں مفاہمت سے بلامقابلہ 11 سینیٹرز کے منتخب ہوجانے کے بعد ایم کیو ایم بھی سندھ میں ایسی ہی مفاہمت کی پالیسی کو اختیار کرنے کا مطالبہ کرچکی ہے۔

یاد رہے تین سال قبل ایم کیو ایم اور تحریک انصاف کے درمیان ہونے والا 9 نقاطی تحریری معاہدہ ابھی تک صرف کاغزوں کی حد تک ہی موجود ہے۔ تو دوسری جانب ایم کیو ایم ماضی میں پیپلزپارٹی سے اتحاد کرنے کے بعد لافی نقصان بھی اٹھا چکی ہے۔

اب دیکھنا یہ ہے کے اونٹھ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔