Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
ڈاکوئوں نے شہر قائد کے ایک اور نوجوان کی زندگی کا چراغ بجھا دیا | زرائع نیوز

ڈاکوئوں نے شہر قائد کے ایک اور نوجوان کی زندگی کا چراغ بجھا دیا

کراچی: شہرقائد میں مسلح ڈاکوﺅں نے مزاحمت پر ایک اور نوجوان کی جان لے لی۔

سرسید تھانے کے علاقے نارتھ کراچی سیکٹر 8 مکان نمبر 179 کے قریب نامعلوم مسلح ملزمان نے ڈکیتی کی واردات کے دوران مزاحمت پرفائرنگ کردی اور فرارہو گئے۔

فائرنگ کے نتیجے میں ایک نوجوان شدید زخمی ہو گیا جسے فوری طور پرعباسی اور بعدازاں اسٹیڈیم روڈ پر واقع نجی اسپتال منتقل کردیا گیا جہاں زخمی نوجوان دوران علاج دم توڑ گیا۔

مقتول نوجوان کی شناخت 30 سالہ جہانگیرولد سہیل کے نام سے کی گئی مقتول نوجوان مکان نمبر آر179 سیکٹر 8 نارتھ کراچی کا رہائشی تھا اوراقرا یونیورسٹی میں بی بی اے چھٹے سمسٹرکا طالب تھااور پارٹ ٹائم شادی بیاہ سمیت دیگرتقریبات میں فوٹو گرافی بھی کرتا تھا۔اس حوالے سے ایس ایچ او شاہد تاج نے بتایا کہ مقتول نوجوان کسی تقریب سے فوٹو گرافی کرنے کے بعد واپس گھر جا رہا تھا جسے ہی گھر کی دہلیر پرپہنچا تو تعاقب کرتے ہوئے مسلح ملزمان بھی پہنچ گئے اورمسلح ملزمان نے مقتول نوجوان سے بیگ چھینے کی کوشش کی بیگ میں کمیرے اور دیگر قیمتی سامان موجود تھا جس پر نوجوان نے مزاحمت کی اورزمین پر پتھراٹھاکر مسلح ملزمان کو مارا اسی دوران ملزمان نے اندھا دھند فائرنگ کردی اور فرار ہو گئے۔

فائرنگ کے نتیجے میں نوجوان جسم کے عقب میں 2 گولیاں لگنے سے شدید زخمی ہو گیا جسے عباسی شہید اسٹیڈیم روڈ پر واقع نجی اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے اس کے دم توڑجانے کی تصدیق کردی ،ایس ایچ او نے بتایا کہ واقعے کی اطلاع پر پولیس موقع پر پہنچ گئی تھی اور پولیس نے جائے وقوع سے نائن ایم ایم پستول اور 30 بور پستول کے 3 خول اور بغیر چلی 8 گولیاں برآمد کرلی ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ زخمی نوجوان کے بھائی کے بیان کے مطابق مسلح ڈکیت مقتول نوجوان کا بیگ چھینے میں کامیاب نہیں ہوسکے ، پولیس نے ضابطے کی کارروائی کے بعد لاش ورثا کے حوالے کردی اورجائے وقوع سے شواہد اکٹھا کر کے واقعے کی تفتیش شروع کردی۔

مقتول نوجوان کے ساتھ کام کرنے والے نوجوانوں نے بتایا کہ مقتول جہانگیر ان کے ساتھ ہی پوری پوری رات گھر تصاویر اور ویڈیوز ایڈٹ کا کام کیا کرتا تھا مقتول اکثر ان کے ساتھ ہی تقریبات کور کرنے جاتا تھا لیکن جمعے کی شب مقتول کا اپنا ایک ذاتی ایونٹ تھا جسے وہ اکیلے ہی کور کرنے گیا تھااور واپسی پر اس کے ساتھ افسوسناک واقعہ رونما ہو گیا۔

انھوں نے بتایا کہ مقتول نوجوان کے پاس بیگ میں قیمتی کیمرے، لینس، لائٹ اور اسٹینڈ دیگر سامان ہوا کرتا تھا۔