کراچی : سندھ ہائیکورٹ نے واٹر بورڈ ہائیڈرنٹس کی نیلامی کیخلاف درخواست مسترد کرتے ہوئے نیلامی کرنے کی اجازت دے دی۔
جسٹس ظفر احمد راجپوت پر مشتمل سنگل بینچ کے روبرو واٹر بورڈ ہائیڈرنٹس کی نیلامی کیخلاف درخواست پر سماعت ہوئی۔ ٹھیکیداروں کے وکیل نے موقف دیا کہ ٹینکرز کے ذریعے ڈی سی کوٹہ پانی سپلائی کے واجبات جو کروڑوں روپے ہیں واٹر بورڈ پر واجب الادا ہیں, ہماری عدالت سے درخواست ہے کہ واٹر بورڈ کو ہائیڈرنٹس کی نیلامی سے روکا جائے اور ٹھیکیداروں کے واجبات کی ادائیگی کا حکم دیا جائے۔
واٹر بورڈ کے وکیل نے موقف اپنایا کہ ڈی سی کوٹہ کی ادائیگی حکومت سندھ کو کرنی ہوتی ہے, اس پر ادارے کے 2 ارب 64 کروڑ کے واجبات ہیں, حکومت سندھ سے ادائیگی ہوتے ہی ٹھیکیداروں کو ادائیگی کردی جائیگی۔
نجی فورم ٹھیکیداروں کی رقم کا تعین کررہی ہے۔ جسٹس ظفر احمد راجپوت نے ریمارکس میں کہا کہ ہائیڈرنٹس نیلامی کی 2 سال کی مدت پوری ہونے پر نیلامی کونہ روکا جائے اور نیلامی کی جائے۔
عدالت نے واٹر بورڈ حکام سے استفسار کیا کہ ان ٹھیکیداروں کو نیلامی میں شامل کیا گیا یا نہیں۔ جس پر واٹر بورڈ ہائیڈرنٹ سیل انچارج الہی بخش بھٹو نے بتایا کہ تمام ٹھیکیداروں نے نیلامی میں شرکت کے فارم جمع کرادئیے ہیں۔
عدالت نے ریمارکس میں کہا کہ ان ٹھیکیداروں سے زر ضمانت کی 10 فیصد رقم کامیابی کی صورت میں فی الحال نہ لی جائے، جن کے واجبات ہیں۔
عدالت نے واٹر بورڈ ہائیڈرنٹس کی نیلامی کیخلاف درخواست مسترد کرتے ہوئے نیلامی کرنے کی اجازت دے دی۔
