Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
وکلا نے ماورائے عدالت قتل کیخلاف آواز اٹھادی | زرائع نیوز

وکلا نے ماورائے عدالت قتل کیخلاف آواز اٹھادی

کراچی: وکلا رہنماؤں نے ماورائے عدالت قتل کیخلاف آواز اٹھادی۔ کراچی سٹی کورٹ میں سندھ بار کونسل، ہائیکورٹ بار، کراچی بار ایسوسی ایشن اور ملیر بار ایسوسی ایشن کی مشترکہ پریس کانفرنس منعقد ہوئی۔ وائس چئیرمین سندھ بار کونسل ذوالفقار جلبانی، صدر کراچی بار عامر سلیم و دیگر شریک ہوئے۔

وائس چیئرمین سندھ بار کونسل ذوالفقار جلبانی نے کہا کہ سندھ میں ماروائے عدالت قتل کیخلاف آج پریس کانفرنس کررہے ہیں۔ حال ہی میں پولیس اسٹیشن غوث پور نے اسد اللہ شیخ اور میر شیخ کو گرفتار کیا تھا۔

پولیس نے ان کیخلاف کوئی مقدمہ درج نہیں کیا، حبس بے جا میں رکھا، 30 جنوری کو ایک جھوٹے مقابلے میں قتل کردیا گیا تھا۔ ایک جھوٹی ایف آئی آر پولیس مقابلے کی درج کی گئی تھی جس میں پولیس نے بتایا کہ ڈاکوؤں کو مار دیا گیا ہے۔ یہ پولیس گردی ہے جو نوجوانوں کو ماورائے عدالت قتل میں مار رہی ہے۔ یہ پولیس اپنی عدالت لگائے گی۔ ماورائے عدالت قتل ہونے والے نوجوان ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سندھ حاکم شیخ کے رشتے دار ہیں۔

ایس ایس پی عرفان سموں ہاف فرائی اور فل فرائی کے ماہر ہیں۔ یہ روزانہ کی بنیاد پر ہورہا ہے۔ پورے سندھ میں یہ ہورہا ہے۔ ہمیں افسوس سے کہنا پڑتا ہے عدالتیں نوٹس نہیں لیتی ہیں۔پولیس کہتی ہے کسی عدالت کسی قانون کو نہیں مانتے ہیں، ان کی اپنی عدالت ہے۔

وکلا رہنماؤں نے کہا کہ ایسے پولیس افسران جن کی ہسٹری جھوٹے مقابلوں کی وجہ سے بدنام ہے ان کو پوسٹنگ دے دی جاتی ہے۔ آئی جی سندھ پولیس کے سربراہ ہیں، جھوٹے مقابلوں میں ملوث افسران کیخلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔

سندھ بار کونسل کے فوکل پرسن نے اعلی پولیس افسران سے رابط کیا مگر ایس ایس پی کیخلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان، چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ اور حکومت سندھ اس کا نوٹس لیں۔