کوئٹہ : عزیز احمد اور ان کی 80 سالہ ریٹائرڈ ٹیچر بہن مختار بیگم گھر میں اکیلے رہتے تھے۔
دونوں بہن بھائی اپنے اپنے کمروں میں آرام کرنے گئے تو کچھ دیر بعد مختار بیگم کے کمرے کے ٹی وی کی آواز بہت اونچی ہو گئی۔
عزیز احمد نے بہن کو آوازیں دیں۔ کوئی جواب نہیں آیا تو خود دیکھنے گئے، لیکن کمرے کا دروازہ باہر سے بند تھا۔ بھائی کو شک ہوا اس لیے دوسرے دروازے سے جا کر دیکھا تو بزرگ بہن کو رسیوں سے جکڑا ہوا پایا۔
عزیز احمد نے بتایا کہ ’میں نے جلدی سے رسیوں کو کاٹا، لیکن بہن کی سانسیں بند ہوچکی تھیں۔ انہیں گلہ دبا کر مارا گیا تھا۔‘
