کراچی: گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے کہا ہے کہ پاکستان کو بنے 75 سال ہو چکے ہیں، لیکن ہم نے صرف باتیں کی ہیں، مسائل کا حل نہیں نکالا۔ لوکلائزیشن کےلئے ہم سب کو مل کر کوشش کرنی چاہئے۔
یہ بات انہوں نے کے۔ الیکٹرک اور نٹ شیل گروپ کے زیراہتمام مقامی ہوٹل میں قومی پالیسی مذاکرہ بعنوان “لوکلائزیشن فار گروتھ“ سے خطاب کرتے ہوئے کہی،ڈائیلاگ میں پاکستانی معیشت کی مضبوط و مستحکم ترقی کے لیے مقامی وسائل اور ذرائع کا استعمال بڑھانے پر توجہ مرکوز کرائی گئی۔ آبادی کے لحاظ سے دنیا کا چوتھا بڑا ملک ہونے کے باوجود پاکستان توانائی اور خوراک کے شعبے میں ابھی تک خودکفیل نہیں ہوسکا ہے۔
مذاکرے سے خطاب کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے توانائی سینیٹر ڈاکٹر مصدق ملک، وفاقی وزیر برائے بجلی خرم دستگیر، گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے عوام کے مفاد میں حکومتی اقدامات کی وضاحت کی۔ سینیٹر مصدق ملک نے کہا کہ لوکلائزیشن ایک مطالبہ نہیں بلکہ وقت کی ضرورت ہے۔ ہمیں اس حقیقت اور اپنی صلاحیتوں کا ادراک کرنا چاہئے۔ ہمیں وقتی نہیں، مستقل حل کی ضرورت ہے۔ جب تک ہم مقامی وسائل اور ذرائع پر انحصار نہیں بڑھاتے، اُس وقت تک عالمی سطح پر مقابلہ کرنے کے قابل نہیں ہوسکیں گے۔ہم UFGs (گیس کے لیے لامحدودیت) کو کم کرنا اور سرکلر ڈیٹ کو صفر کی سطح پر لانا چاہتے ہیں، لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ تمام مسائل ختم ہوگئے، بلکہ ہمیں ابھی بہت طویل سفر طے کرنا ہے۔
وفاقی وزیر برائے بجلی خرم دستگیر کا کہنا تھا کہ الیکٹرک وہیکل (ای وی) کے اقدام سے کاربن کے اخراج میں 50فیصد کمی آئے گی، جب کہ درآمدی ایندھن کی کھپت بھی نصف رہ جائے گی۔
اس اقدام سے ڈالرز کی بچت کے ساتھ پاکستان میں روزگار اور انفرا اسٹرکچر کو ترقی دینے کے وسیع مواقع پیدا ہوں گے۔ چیئرمین نیپرا توصیف ایچ فاروقی نے کہا کہ لوکلائزیشن آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے۔دنیا صفر اثاثہ جات کی پالیسی کے ساتھ ترقی کر رہی ہے، پاکستان پر سے ذمہ داری کم کرنے کے لیے اثاثے صفر ہونے چاہئیں۔
لوکلائزیشن آنے والی نسلوں کے لیے گیم چینجر ثابت ہوگا۔ کے الیکٹرک کے سی ای او سید مونس عبداللہ علوی نے نے بتایا کہ کے۔ الیکٹرک اپنے نظام میں 474 ارب روپے کی سرمایہ کاری کرچکی ہے اور اگلے سات سال میں مزید 484ارب روپے کی سرمایہ کاری کرینگے،جلد ہی (2030تک) کمپنی 2172 میگاواٹ توانائی مقامی ذرائع سے پیدا کرے گی۔ ہمیں مقامی ایندھن پر انحصار بڑھانا اور درآمدی ایندھن پر کم کرنا پڑے گا۔ حکومت پالیسی سازی پر توجہ دے۔


