بیسویں روزے کے افطار کے بعد اکیسویں شب اور رمضان المبارک کے آخری عشرے کا آغاز ہوگیا ہے، جس میں مسلمانوں کو ہزاروں مہینوں سے افضل رات لیلۃ القدر تلاش کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
حدیث نبوی ﷺ ہے کہ رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں لیلۃ القدر کو تلاش کرو (الصحیح البخاری)
رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتیں کیا ہیں؟
چاند کے حساب سے رمضان المبارک کے آخری عشرے کی طاق راتیں شمار ہوں گی، جن میں اکیس، تیئس، پچیس، ستائیس اور انتسویں شب ہے۔
لیلۃ القدر کی اہمیت
امت محمدیہ کی عمر کم ہونے کی وجہ سے اصحاب نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے شکوہ کیا کہ ہم سے پہلے والی امتوں کے لوگوں کی عمریں طویل ہوتی تھیں اور وہ اس حساب سے عبادات بھی کرتے تھے۔
اس پر اللہ رب العزت نے امت مسلمہ کو شب قدر یعنی ہزاروں مہینوں سے بہتر رات عطا کی اور اس حوالے سے ایک سورہ ’سورۃ القدر‘ نازل فرمائی۔
ایک روایت کے مطابق لیلۃ القدر کی شب فرشتے زمین پر آتے اور ذکر خدا میں مصروف انسانوں سے مصافحہ بھی کرتے ہیں۔
اس رات میں کرنے والے اعمال
لیلۃ القدر کی تلاش میں رات جاگ کر عبادت کے خاص اہتمام کا حکم دیا گیا ہے، ان عبادات میں نماز، تلاوت، نوافل کی ادائیگی اور قیام الیل (تراویح) ہے جبکہ صلوۃ التوبۃ ادا کی جاسکتی ہے۔
اس کے علاوہ نبی صلی اللہ علی والہ وسلم نے اس رات کے حوالے سے ایک خاص دعا بھی بتائی اور اُس کے مستقل ذکر کا حکم دیا، یعنی اگر آپ مذکورہ بالا اعمال نہیں کررہے اور فارغ ہیں تو اس دعا کو کثرت سے پڑھیں۔
لاکھوں فرزندان اسلام اعتکاف میں بیٹھ گئے، مساجد میں رونقیں بڑھ گئیں
ترجبہ : ’اے اللہ تو معاف کرنے والا ہے، معافی کو پسند کرتا ہے، مجھے معاف کردے‘۔

روایت کے مطابق لیلۃ القدر کا جب حکم آیا تو اللہ کے نبی علیہ الصلوۃ والسلام اپنی امت کو بتانے کے لیے روانہ ہوئے تو راستے میں ایک لڑائی دیکھ کر رکے جس کی وجہ سے وہ رات ذہن سے نکل گئی اور پھر آپ نے اللہ کے حکم سے اسے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرنے کی تلقین کی۔
لیلۃ القدر کی نشانیاں
لیلۃ القدر کے حوالے سے مختلف احادیث موجود ہیں جن میں نشانیاں بھی بیان کی گئیں ہیں۔ ان تمام احادیث کی روشنی میں علما کرام اور مفتیان نے 7 نشانیاں بتائیں ہیں۔
پہلی نشانی یہ ہے کہ اس رات موسم معتدل ہوتا ہے یعنی نہ ہی گرمی ہوتی ہے اور نہ سردی (مسند ابوداؤد خلاصہ)
اس رات کوئی ستارہ ٹوٹ کر نہیں گرتا (مسند احمد بن حنبل)
رات کے وقت آسمان پر غیر روایتی رونق (روشنی) ہوتی ہے
سمندر کا پانی شور نہیں کرتا اور اس کا ذائقہ میٹھا ہوتا ہے
اس رات کتے نہیں بھونکتے
چاند آسمان پر ایک تھال کی طرح یعنی مکمل گول اور روشن دکھائی دیتا ہے (صحیح مسلم 1170)
صبح کا سورج شعاعوں کے بغیر نکلتا ہے یعنی دھوپ اور اس کی تمازت نہیں ہوتی۔
شب قدر کی اہمیت
ایک روایت ہے کہ نبی علیہ الصلوۃ والسلام نے ارشاد فرمایا ’جو شخص لیلۃ القدر کی تلاش میں قیام کرے اور اُس رات کو پا لے تو اُس کے پچھلے تمام گناہ معاف کردیے جاتے ہیں۔
شب قدر کا وقت کب شروع ہوتا ہے؟
لیلۃ القدر کا آغاز نماز عشا کے بعد سے عشراق یعنی سورج طلوع ہونے تک ہوتا ہے، اس دوران عبادات کا خصوصی اہتمام اور ذکر اذکار کرنا چاہے۔
اللہ رب العزت رمضان المبارک کی برکت اور اپنی رحمت سے ہم سب کو شب القدر پانے والا خوش نصیب بنائے اور ہمارے گناہ معاف کر کے ہم سے ہمیشہ کیلیے راضی ہوجائے۔ آمین
