راولپندی: توشہ خانہ کیس میں تین سال قید کی سزا پانے پر گرفتاری کےبعد ڈسڑکٹ جیل اٹک منتقل کیے جانے پر سابق وزیراعظم وچیرمین تحریک انصاف عمران خان نے اسیری کی پہلی رات اٹک جیل کے ہائی سیکورٹی بیرک میں گزاری چیئرمین پی ٹی آئی کو رات کا کھانا اور صبع کاناشتہ جیول مینول کے مطابق دیا گیا جیل کے اندر اور بیرونی اطراف میں سیکورٹی ہائی الرٹ رھی سزا کے بعد وکلا کو ملاقات کی اجازت بھی نہ ملی۔
چئیرمین پی ٹی آئی کو ڈسٹرکٹ اٹک جیل کے ہائی سیکورٹی بیرک میں رکھاگیا ہے جیل مینوئل کے مطابق سابق وزیراعظم کا میڈیکل کرکے مختص بیرک میں منتقل کیا گیا جہاں انھوں نے اسیری کی پہلی رات گزاری ،رات کا کھانا بھی جیل کا تیار کیا کھایا اور صبع کا ناشتہ بھی جس میں ڈبل روٹی کے سلائیس،مکھن، فرائی اور ابلا ہوا انڈہ و چائے شامل تھی چئیرمین پی ٹی آئی کو جیل مینوئل کے مطابق دیگر سہولیات ، استعمال کا ضروری سامان تولیہ، ٹیشو پیپر، منرل واٹر، عینک، تسبیح، گھڑی ، کرسی، زمین پر سونے کے لیے میٹرس فراہم کیا گیا ہے
جیل زرائع کے مطابق جیل پہنچنے پر گذشتہ شب چیرمین پی ٹی آئی نے نماز عشاء ادا کی اور کچھ وقت سونے کے بعد رات کے آخری پہر نماز تہجد کے لیے بھی اٹھے اور نماز فجر ادا کرکے جیل کا مہیا کردہ ناشتہ کیا
ڈسڑکٹ جیل اٹک میں سابق وزیر اعظم نواز شریف سمیت سابق وزراء اعلیٰ و دیگر سیاسی شخصیات بھی ماضی میں اسیر رہ چکی ہیں اور عمران خان کو بھی اسی سیکورٹی بیرک میں رکھاگیا ہے جہاں میاں نواز شریف بھی کچھ عرصہ اسیر رہے سابق وزاء اعظم کو اسیری کے دوران بیٹر کلاس جس میں ٹی وی، اخبار، لکھنے پڑھنے کے کتب، کاغذ اور ائیر کنڈیشن، چھوٹا فریج یا روم کولر و بستر اور مشقتیوں کی اجازت ہوتی ہے تاہم چیئرمین پی ٹی آئی کے لیے ان سہولیات کو ہوم ڈیپارٹمنٹ یا عدالت کی اجازت سے مشروط کیا گیا ہے
سیکورٹی
چیرمین پی ٹی آئی کی ڈسڑکٹ جیل اٹک میں اسیری کےباعث سیکورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے جیل کے اندر بھی بیرک کے گرد محکمہ جیل خانہ جات کے کمانڈوز تعینات ہیں جبکہ آوٹر کارڈن پر جیل پولیس تعینات ہے اسی طرح جیل کے بیرونی اطراف بھی ضلعی پولیس اور رینجرز کو تعینات رکھا گیا ہے۔
جیل میں پہلی رات اسیری کے دوران چیئرمین پی ٹی آئی کچھ بے چین ضرور رہے تاہم رات انھوں نے کسی قسم کی شکایت کیے بغیر گزاری اور مورال کو ہائی رکھتے دکھائی دیے۔
