Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
ماہرین نے پرا اسرار بیماری سےآئی بیکس کی اموات کی تصدیق کردی | زرائع نیوز

ماہرین نے پرا اسرار بیماری سےآئی بیکس کی اموات کی تصدیق کردی

کراچی: ماہرین نے سندھ کے دیہی علاقے کیرتھرمیں پہاڑی بکروں(آئی بیکس) کی پراسراربیماری سے اموات کی تصدیق کردی ۔

سندھ انسٹی ٹیوٹ آف اینیمل ہیلتھ ریسرچ لیبارٹری کے ماہرین نے آئی بیکس میں پی پی آر نامی پراسراربیماری کا سراغ لگایا ہے،مردہ آئی بیکس کے پوسٹمارٹم کے بعد بیماری کا انکشاف ہواہے،سندھ وائلڈ لائف نے آئی بیکس کی اموات کو قدرتی قراردے کر کسی بھی وبا پھیلنے کی تردید کی تھی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کیرتھر میں پی پی آر سے متاثر ہوکرآئی بیکس دم توڑ رہے ہیں،پراسرار بیماری عفریت کی طرح آئی بیکس پر حملہ آور ہے۔ ایک سروے کے دوران کیرتھر کے پہاڑی سلسلے میں 30 ہزار سے زائد آئی بیکس رپورٹ ہوئےہیں ۔ ہرن کے خاندان سے تعلق رکھنے والے آئی بیکس مبینہ طور پر بھیڑ،بکریوں میں پائی جانے والی پی پی آر نامی بیماری کا شکار ہوئے ہیں جسے مقامی لوگ گوٹ طاعون کہتے ہیں اوریہ بیماری عام طور بھیڑوں اور بکریوں سمیت دیگر چوپایوں میں پائی جاتی ہے۔

ماہرین اور حکام کا خیال ہے کہ ممکنہ طور پر یہ بیماری مقامی بکریوں سے آئی بیکس میں منتقل ہورہی ہے۔گزشتہ دو ماہ کے دوران 30 سے ​​زائد آئی بیکس کی پراسرار موت کا بالآخرسراغ لگا لیا گیا ہے ۔سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ پراسراربیماری کے انکشاف کے بعد کیرتھر میں تمام جانوروں کی ویکسینیشن کرنے کا عمل شروع کردیا گیا ہے اور مہلک بیماری کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے مزید سخت اقدامات بروئے کارلائےجانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔لائیو اسٹاک سندھ کے ڈائریکٹر جنرل اور سندھ انسٹی ٹیوٹ آف اینیمل ہیلتھ کراچی کے ڈی جی ڈاکٹر نذیر احمد کلہوڑو کا کہناہے کہ محکمہ نے آئی بیکس اموات کو روکنے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں۔

ماہرین نے اس حوالے سے پیشگی اقدامات تجویز کردیے ہیں تاکہ اسے پھیلنے یا کسی بڑے نقصان پہنچانے سے روکا جاسکتے ۔ حکومتی سطح پر اس حوالے تاحال خاموشی پائی جارہی ہے۔