کراچی: انسداد دہشت گردی کی عدالت میں نقیب اللہ قتل کیس کی سماعت ہوئی جہاں قبائلی نوجوان سمیت 450 افراد کے قاتل کو بغیر ہتھکڑی پیش کیا گیا، راؤ انوار کے عدالت آنے جانے کے چال چلن سے بالکل نہیں لگ رہا تھا کہ یہ شخص ملزم ہے۔
مقدمے کی سماعت بند کمرے میں شروع ہوئی تو راؤ انوار نے عدالت میں گرمی کا شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ لگتا ہے عدالت کا اے سی خراب ہوگیا جس پر جج نے جواب دیا کہ آپ خاموش رہیں۔
عدالت میں نقیب اللہ قتل کیس کی سماعت کے دوران سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار اور دیگر ملزمان کو پیش کیا گیا، جہاں مقدمے میں نامزد ملزم ڈی ایس پی قمر احمد نے ضمانت کی درخواست دائر کردی۔ جس پر عدالت نے ریمارکس دیئے کہ ‘حیرت ہے سرکاری وکلاء نوٹس بھی وصول نہیں کررہے’۔
عدالت کا کہنا تھا کہ ‘ہائی کورٹ کو لکھا تھا کہ کیس بھیج رہے ہیں تو عملہ اور سرکاری وکیل بھی بھیجیں’۔ سماعت کے بعد عدالت نےپیش کردہ سی ڈی کی کاپیاں کروا کر پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے مقدمے کی سماعت 28 مئی تک کے لیے ملتوی کردی۔
سرکاری وکیل کے ذرائع نے انکشاف کیا کہ پراسیکیوٹر جنرل علی رضا آج سماعت پر پیش نہ ہوسکے کیونکہ انہیں قتل کی دھمکیاں مل رہی ہیں۔ پراسیکیوٹر نے مقدمے کی مزید پیروی سے معذرت بھی کرلی کیونکہ ابھی میرے بچے چھوٹے ہیں، علی رضا کی عدم موجودگی میں دیگر سرکاری وکلاء پیش ہوئے۔
نقیب اللہ قتل کیس کے مرکزی ملزم نے عدالت میں درخواست دائر کی کہ انہیں گھر میں نظر بند ہونے کے ساتھ بی کلاس فراہم کی جائے جسے عدالت نے منظور کرلیا۔
دوسری جانب مدعی وکیل کا کہنا تھا کہ راؤ انوار کو سندھ حکومت مدد فراہم کررہی ہے، آج بھی گھر میں نظر بند کا کوئی نوٹی فکیشن پیش نہیں کیا گیا، یہ دنیا کا وہ واحد شخص ہے جو قتل کا ملزم ہونے کے باوجود اپنے ہی گھر میں آرام و سکون کے ساتھ رہ رہا ہے۔
خبر کو عام عوام تک پہنچانے میں ہمارا ساتھ دیں، صارفین کے کمنٹس سے ادارے کا کوئی تعلق نہیں ہے۔
