Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6170
ختم نبوت ﷺ قانون میں ترمیم، جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے تفصیلی فیصلہ جاری کردیا

ختم نبوت ﷺ قانون میں ترمیم، جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے تفصیلی فیصلہ جاری کردیا

اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ختم نبوت ﷺ قانون میں ترمیم کے معاملے پر کیس کا تفصیلی فیصلہ سنادیا ہے۔

جسٹس شوکت عزیز صدیقی کا فیصلہ 172 صفحات پر مشتمل ہے جس کے صفحہ نمبر 163 پر راجہ ظفرالحق کمیٹی کے حوالے سے تفصیلات درج ہیں۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں راجہ ظفرالحق کمیٹی رپورٹ پبلک کرنے کا حکم دے دیا۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے اپنے فیصلے میں شناختی کارڈ، پاسپورٹ اور ووٹ بنوانے کیلئے مذہب  کا بیان حلفی دینا ضروری قرار دیا گیا ہے۔

جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ ختم نبوت ﷺ والے معاملے پر ارکان پارلیمنٹ کی اکثریت اس مسئلے کو اہمیت دینے میں ناکام رہی ہے۔ ارکان پارلیمان کی جانب سے ختم نبوت ﷺ کے معاملے کو وہ اہمیت نہیں دی جتنی دی جانی چاہیے تھی جبکہ پارلیمنٹ آئین پاکستان کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے والے کو بھی بے نقاب کرنے میں ناکام رہی ہے۔

یاد رہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کی نااہلی کے بعد انہیں ایک مرتبہ پھر پارٹی صدر بنانے کے لئے مسلم لیگ نے انتخابات بل 2017 متعارف کرایا جسے پہلے سینیٹ اور پھر قومی اسمبلی سے منظور کرایا گیا۔

کاغذات نامزدگی میں ختم نبوت کے حلف نامے میں ترمیم کی نشاندہی ہونے پر مذہبی جماعت کی جانب سے ملک بھر میں شدید احتجاج کیا گیا جس پر (ن) لیگ کے قائد میاں نوازشریف نے اس حوالے سے تحقیقات کے لیے 7 اکتوبر کو راجہ ظفر الحق کی سربراہی میں تین رکنی کمیٹی تشکیل دی جس میں احسن اقبال اور مشاہد اللہ خان بھی شامل تھے۔

مذہبی جماعت کی جانب سے نومبر 2017 میں 22 روز تک دھرنا دیا گیا جو بعدازاں اس وقت کے وزیر قانون زاہد حامد کے استعفے اور ایک معاہدے کے بعد ختم ہوا۔


خبر کو عام عوام تک پہنچانے میں ہمارا ساتھ دیں، صارفین کے کمنٹس سے ادارے کا کوئی تعلق نہیں ہے۔