کراچی میں جرائم بے قابو، پولیس اور ادارے کنٹرول میں مکمل ناکام
رواں سال کے ابتدائی 3 ماہ میں 95 افراد کی ٹارگٹ کلنگ ، ڈکیتی اور اسٹریٹ کرائم کی وارداتوں میں بے تحاشہ اضافہ
سی پی ایل سی نے رپورٹ جاری کردی، سرکاری سمیت 42 گاڑیاں چھن گئی
کراچی:شہر قائد میں جرائم کی وارداتوں میں بے پناہ اضافہ ہوگیا جس کا انکشاف سی پی ایل سی نے خود اپنی شائع ہونے والی سہہ ماہی رپورٹ میں کیا۔ رواں سال کے ابتدائی تین میں 42 گاڑیاں چھین لی گئیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جرائم اس حد تک بے قابو ہوگئے کہ یہ پولیس کے کنٹرول سے بھی باہر ہیں، عام لوگ ہی نہیں بلکہ سرکاری گاڑیاں بھی چھینی گئیں۔
جنوری اور فروری میں 13 ، 13 اور مارچ میں نامعلوم افراد 16 گاڑیاں لے اڑے جنہیں تاحال بازیاب نہ کرایا جاسکا۔ رپورٹ کے مطابق مارچ میں 116، فروری میں 83 اور جنوری میں 122 گاڑیاں چوری ہوئی، مجموعی طور پر تین ماہ میں 321 گاڑیاں چوری ہونے کے مقدمات درج ہوئے، پولیس نے آدھی سے بھی کم گاڑیاں ریکور کیں، جنوری، فروری اور مارچ میں بالترتیب 49، 41 اور 43 گاڑیاں مختلف علاقوں سے برآمد کی گئیں جبکہ چھینی ہوئی کسی بھی گاڑی کا سراغ نہ لگایا جاسکا۔
سی پی ایل سی نے بتایا کہ رواں سال کے ابتدائی 3ماہ میں فائرنگ کے مختلف واقعات میں 95 افرادفائرنگ جاں بحق ہوئے، جنوری میں 21، فروری میں 38 اور مارچ میں 36 افراد کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا گیا جبکہ اسی دوران 2 بینک ڈکیتیاں ہوئیں جنوری اور مارچ میں مسلح افراد نے مختلف علاقوں میں واقع بینک لوٹے جبکہ فروری میں بینک ڈکیتی کا کوئی بھی واقعہ رپورٹ نہیں ہوا۔ ابتدائی تین ماہ میں سیکڑوں شہری موبائل اور نقدی سے بھی محروم ہوئے، اسٹریٹ کرائم کی سب سے زیادہ وارداتیں ڈسٹرکٹ سینٹرل اور اُس کے بعد ڈسٹرکٹ ایسٹ میں ہوئیں، متعدد شہریوں نے اپنے ساتھ ہونے والی وارداتیں بھی تھانوں میں رپورٹ نہیں کیں۔ دوسری جانب قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی یومیہ بنیاد پر کارروائی کرکے ملزمان کو گرفتار کررہے ہیں جنہیں قانونی چارہ جوئی کے لیے پولیس کے حوالے کردیا جاتا ہے۔
