کراچی: ٹرانسپورٹ اتحاد کے سربراہ ارشاد بخاری نے گزشتہ روز ویڈیو پیغام میں انکشاف کیا تھا کہ اتوار کے روز ہونے والے جلسے اور مذہبی دھرنے کے بعد سے 13 گاڑیاں بمعہ ڈرائیورز لاپتہ ہیں۔
ارشاد بخاری کا بیان سامنے آنے کے بعد شہر میں سنسنی پھیل گئی جس کے بعد معلوم ہوا کہ 13 ڈرائیورز کو حراست میں لیا گیا، وجہ معلوم کرنے پر یہ بات سامنے آئی کہ گرفتار ہونے والے ڈرائیورز کا جرم یہ تھاکہ انہوں نے شیعہ مسنگ پرسنز کے اہل خانہ کو دھرنے کے مقام پی ای سی ایچ ایس تک پہنچایا۔
یاد رہے کہ شیعہ مسنگ پرنسز کے اہل خانہ نے صدر مملکت عارف علوی کی رہائش گاہ کے باہراتور کے روز سے دھرنا دیا ہوا ہے، تحریک انصاف کے رہنما اور اپوزیشن لیڈر فردوس شمیم نقویٰ نے مسلکی بنیاد پر مظاہرین سے بات کرنے کی کوشش کی تو انہوں نے ایک نہ مانی اور کہا کہ جب تک ہمارے بچے واپس نہیں آجاتے تب تک ہم واپس نہیں جائیں گے۔
UPDATE: All 13 drivers have been released now, according to Transport Ittehad. Authorities saying they will also let go of the buses shortly too.
— Fawad फ़वाद (@FawadHazan) May 1, 2019
نوجوان صحافی فواد حسن جو اس مظاہرے کو کور کررہے ہیں انہوں نے کچھ دیر قبل اطلاع دی کہ گرفتار ہونے والے تمام ڈرائیورز کو رہا کردیا گیا اور جلد اُن کی گاڑیاں بھی واپس کردی جائیں گی۔
https://zaraye.com/karachi-transport-ittehad-president-presser/
