اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) حکومت اور وزیراعظم عمران خان طارق باجوہ کی جگہ ایسے شخص کو اسٹیٹ بینک کا گورنر لگائیں گے جو آئی ایم ایف کے لیے کام کررہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق تحریک انصاف کی جانب سے ڈاکٹر رضا باقر کو گورنر سٹیٹ بینک بنائے جانے کا امکان ہے۔ نجی ٹی وی دنیا نیوز کے مطابق ڈاکٹر رضا باقر انٹرنیشنل مانیٹرنگ فنڈ(آئی ایم ایف) کیلئے مصر میں کام کر رہے ہیں جبکہ وہ اس سے پہلے آئی ایم ایف کے رومانیہ کے ملکی سربراہ تھے۔
ڈاکٹر رضا باقر نے کیلیفورنیا سے ڈاکٹریت کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔ واضح رہے کہ گورنر سٹیٹ بینک طارق باجوہ اور چیئرمین ایف بی آرمحمد جہانزیب خان کوعہدوں سے ہٹادیا گیاہے اور بتایا گیا کہ وفاقی حکومت نے یہ فیصلہ موجودہ اقتصادی صورتحال کومد نظر رکھتے ہوئے معاشی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے کیا ہے۔ سٹیٹ بینک کے ذرائع کے مطابق وزیر اعظم عمران خان نے گورنر سٹیٹ بینک سے استعفیٰ طلب کیا تھا جس پر گورنر سٹیٹ بینک نے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔
عہدے سے ہٹائے جانے کی وجوہات
ذرائع کے مطابق وزیر اعظم عمران خان نے گورنر اسٹیٹ بینک طارق باجوہ سے استعفیٰ طلب کیا تھا جبکہ چیئر مین ایف بی آر محمد جہانزیب نے اثاثے ڈیکلریشن اسکیم کو اپنانے سے انکار کیا تھاجس پر وزیر اعظم ناراض ہوگئے تھے اور اسد عمر کے دور میں ہی انہیں ہٹانے کا فیصلہ کرلیا تھا۔
جیونیوز کے مطابق اسٹیٹ بینک کے ذرائع نے بتایا کہ وزیر اعظم عمران خان نے گورنر سٹیٹ بینک سے استعفیٰ طلب کیا تھا، جس پر طارق باجوہ نے اپنا استعفیٰ دے دیا، انہوں نے اپنا استعفیٰ وزارت خزانہ کے توسط سے وزیر اعظم سیکرٹریٹ کو ارسال کیا۔
دوسری جانب وزیراعظم ہاﺅس کے ذرائع کے مطابق چیئر مین ایف بی آر نے اثاثے ڈیکلریشن سکیم کو اپنانے سے انکار کیا تھا ، چیئر مین ایف بی آر کا موقف تھا کہ سکیم وزیر اعظم کی ہدایت پر تیار کی گئی ہے ۔چیئر مین ایف بی آر کے موقف پر شیخ رشید نے جملہ کسا تھا ، شیخ رشید کا کہناتھا کہ سکیم بنانے والے اس سے لاتعلقی کااظہار کررہے ہیں، اس موقع پر چیئر مین ایف بی آر کے موقف پر وزیر اعظم نے اظہار ناراضی کیا تھا ۔
