اسلام آباد: وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری رویت ہلال کمیٹی کے چیئر مین مفتی منیب الرحمان کے بیان کے بعد ایک مرتبہ پھر میدان میں آگئے اور انہوں نے اہم ترین انکشاف کردیا۔
فواد چوہدری نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ’’عید اور رمضان کا چاند دیکھنے پر 40 لاکھ رخرچ کرنا کہاں کی عقلمندی ہے ، کم از کم چاند دیکھنے کا معاوضہ نہیں ہونا چاہیے‘‘ ۔ فواد چوہدری کا کہناتھا کہ پوری دنیا میں ایسے معاملات رضاکارانہ طور پر ہوتے ہیں جبکہ میں نے رائے دی تھی جس سے اتفاق ضروری نہیں تھا۔ چاند دیکھنے کے لیے چند گھنٹے کے اجلاس کے لیے 40 لاکھ روپے خرچ کرنا کہاں کی عقلمندی ہے ، کم از کم چاند دیکھنے کا تو معاوضہ نہیں ہونا چاہیے؟۔
رمضان کے چاند کا تنازع شدت اختیار کرگیا، مفتی منیب اور فواد چوہدری آمنے سامنے
اُن کا کہنا تھا کہ رویت ہلال کمیٹی کے ممبران چاند تو رضا کارانہ دیکھ لیا کریں ، چاند دیکھنے کیلئے بھاری رقم خرچ ہو رہی ہے جبکہ علماءکرام بھی میری تجویز کی حمایت کر رہے ہیں ، چاند دیکھنے کیلئے سائنسی تکنیک سے فائدہ اٹھانا چاہیے ، 10 سال کا کیلنڈر بن جائے تو غیر ضروری اخراجات سے بچ جائیں گے۔
