وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری آج سارا دن ٹویٹر پر بڑے متحرک نظر آئے اور انہوں نے اپنے مختلف ٹویٹس میں علمائے کرام اور مولویوں پر بلاواسطہ تنقید کی۔
پہلے ٹویٹ میں فواد چوہدری نے کہا کہ ’’ایک پانچ رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی جو آئندہ دس سال کے لیے قمری کلینڈر تیار کرے گیا، اس میں مختلف شعبہ جات کے لوگ شامل ہوں گے‘‘۔
دوسرا ٹویٹ انہوں نے کیا کہ تمام بڑے علماء نے قائد اعظم کی مخالفت کی آج ہم ملک کو اُن کے حوالے نہیں کرسکتے بلکہ نوجوان ملک کو لے کر چلیں گے ۔ فواد چوہدری نے جواب جاری کرتے ہوئے کہا کہ ”یہ فیصلہ کہ ملک کیسے چلنا ہے، مولانا پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔ اس منطق سے تو پاکستان کا قیام ہی عمل میں نہ آتا کیونکہ تمام بڑے علما تو پاکستان کے قیام کے مخالف تھے اور جناح صاحب کو کافر اعظم کہتے تھے۔ آگے کا سفر مولویوں نے نہیں، نوجوانوں نے طے کرنا ہے اور ٹیکنالوجی ہی قوم کو آگے لے جا سکتی ہے۔
تیسرا ٹویٹ انہوں نے کیا کہ پاکستان کے بانیان مغرب کے تعلیمی اداروں کے فارغ التحصیل رہنما تھے ، جماعت اسلامی،جمعیت علمائے ہند اور خاکسار جو جیدمولانا صاحبان کی جماعتیں تھیں پاکستان کے قیام کی سخت مخالف تھیں یہ آرٹیکل کافی تفصیل دیتا ہے اس معاملے پر

بعد ازاں رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین مفتی منیب الرحمٰن نے وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری کے پاکستان کے ’قمری کیلنڈر‘کے بیان پر انہیں ہدف تنقید بنایا۔ مفتی منیب الرحمٰن نے وفاقی وزیر کو نظام سے لاعلم قرار دیا اور کہا کہ فواد چوہدری کو دینی معاملات پر باتوں سے پرہیز کرنا چاہیے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ وفاقی وزیر سائنس وٹیکنالوجی پاکستان کی تاریخ کو مسخ کررہے ہیں، وزیر اعظم کو چاہیے کہ وہ اپنے وزرا کو بیان بازی سے روکیں، میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مفتی منیب نے کہا کہ فواد چوہدری کو معلوم ہونا چاہیےکہ اجلاس محکمہ موسمیات میں ہوتا ہے۔ انہیں دینی معاملات میں باتوں سے پرہیز کرنا چاہیے۔ چیرمین رویت ہلال کمیٹی نے کہا کہ کبھی بھی ایسا نہیں ہوتا کہ کھلےآسمان میں چاند نظرنہ آتا ہو۔ فواد چوہدری چاہیں تو انہیں سو سال کا کیلنڈر بھی بنا دیں گے، جس پر وہ جلسہ بھی کر لیں۔

یاد رہے کہ ملک بھر میں رمضان کے چاند کی شرعی شہادت موصول نہیں ہوئی جس کی بنیاد پر اعلان کیا گیا کہ پہلا روزہ 7 مئی کو ہوگا جبکہ خلیجی ممالک سمیت دیگر ممالک میں آج پہلی تراویح ہوگی، اسی طرح بنگلا دیش، بھارت، نیپال، افغانستان میں بھی رمضان المبارک کا چاند نظر نہیں آٰیا۔
