Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6170
Gawadar pc hotel attack

گودار حملہ ہوٹل کلیئر: دہشت گرد کو مسنگ پرسن قرار دینے کا پروپیگنڈا بے بنیاد نکلا

سیکیورٹی فورسز نے صورتحال پر قابو پالیا، تین دہشت گرد ہلاک، ذمہ داری بی ایل اے نے قبول کرلی ، چار ملازمین اور پاک بحریہ کا ایک جوان شہید، حملہ آور کو بلوچ مسنگ پرسن قرار دینے کا ڈرامہ بھی فلاپ ہوگیا

بلوچستان کے علاقے گوادر میں واقع پرل کوانٹینٹل ہوٹل میں گزشتہ شام نامعلوم افراد داخل ہوئے جنہوں نے گھستے ہی راکٹ داغے، پولیس حکام کے مطابق انہوں نے 10 سے زائد دھماکوں کی آوازیں سنیں۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق سیکورٹی فورسز نے پی سی گوادر میں کلیئرنس آپریشن مکمل کر لیا، تینوں دہشت گرد سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں مارے گئے۔ آئی ایس پی آر کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ آپریشن کے دوران ہوٹل کے 4 ملازمین اور پاک بحریہ کا ایک جوان عباس شہید ہو ا۔

پی سی گوادر آپریشن میں پاک فوج کے 2 کیپٹن، پاک بحریہ کے 2 جوان، اور 2 ہوٹل ملازمین زخمی ہوئے، چین نے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے سیکیورٹی فورسز کے کردار کو سراہا جبکہ بلوچ لبریشن آرمی نے حملے کی ذمہ داری قبول کی اور سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر لمحہ بہ لمحہ اپ ڈیٹ کی۔

آئی ایس پی آر نے سوشل میڈیا پر پھیلنے والی قیاس آرائیوں پر کان نہ دھرنے کی ہدایت کرتے ہوئے عوام کو باخبر رہنے کے لیے پاک فوج کے ذرائع ابلاغ سے جڑے رہنے کا مشورہ بھی دیا۔ سوشل میڈیا پر یہ بھی خبریں زیر گردش تھیں کہ دو حملہ آور مسنگ پرسنز تھے جن کے ناموں پر بلوچوں نے خوب سیاست چمکائی۔

رکن قومی اسمبلی اور حکومت کے اتحادری اختر مینگل نے بلوچ مسنگ پرسنز کے نام پر ہونے والے پروپیگنڈے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے بتایا کہ سیکیورٹی فورسز کی کارروائی کے نتیجے میں جو حمل فتح بلوچ عسکریت پسند مارا گیا وہ کیچ مکران کا تھا جبکہ انہوں نے اسمبلی اور مقتدر حلقوں کو جو فہرست جمع کرائی اُس میں حمل خان نامی نوجوان کوہلو کا رہائشی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ حمل بلوچوں میں ایک قدیم اور تاریخی نام ہے، ہزاروں لوگوں کا یہ نام ہے اگر مسنگ پرسن حمل ایک ہی تھا اور اُسے حملے سے منسوب کیا جارہا ہے تو اس طرح گوادر کے منتخب رکن صوبائی اسمبلی کا نام بھی میر حمل کلمتی ہے تو کیا اُن کا نام بھی مسنگ پرسن یا دہشت گردوں کی فہرست میں جوڑا جائے گا۔