کراچی سے تعلق رکھنے والے سینئر صحافی شفقت سومرو کا نوجوان صاحبزادہ لاپتہ ہوگیا، والد کے مطابق اُن کا بیٹا میکینکل انجینئر ہے اور وہ گزشتہ 6 روز سے لاپتہ ہے۔
پاکستان کی مقامی نیوز ایجنسی پاکستان پریس انٹرنیشنل کے ایڈیٹر شفقت سومر کے مطابق اُن کا صاحبزادہ محمد شفاعت گزشتہ 7 روز سے لاپتہ ہے البتہ کسی بھی ادارے نے اُن سے نہ تو تعاون کیا اور نہ ہی اُس کی بازیابی کے لیے اقدامات کیے۔
اُن کا کہنا تھا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے بیٹے کو بازیاب کروانے اور اُس کا سراغ لگانے میں مکمل طور پر ناکام ہیں جبکہ پولیس نے بھی 6 روز گزرنے کے بعد مقدمہ درج کیا، پولیس نے صحافی کے بیٹے کے لاپتہ ہونے کا مقدمہ پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 365 کے تحت درج کرکے تحقیقات شروع کردیں۔
سینئر صحافی کا کہنا تھا کہ ان کا بیٹا نواب شاہ کی قائد عوام یونیورسٹی میں میکینکل انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کررہا تھا اور ایک مقامی کمپنی میں بطور انٹرنی جاب کررہا تھا، انہوں نے الزام لگایا کہ ’10 مئی کا ان کے بیٹے کو اس وقت لاپتہ کیا گیا جب وہ کام پر جارہا تھا کیونکہ وہ نہ تو دفتر پہنچا اور نہ ہی گھر واپس آیا‘۔
شفقت سومرو کے مطابق ‘ان کے بیٹے کا فون بند ہے، پولیس اور دیگر ادارے، جن میں سی پی ایل سی بھی شامل ہے، ان کے بیٹے کی جی پی ایس معلومات دینے سے قاصر ہیں’۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘6 روز گزر جانے کے باوجود ان کا بیٹا لاپتہ ہے اور انتظامیہ خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے، اہل خانہ جس کرب سے گزر رہے ہیں اسے بیان نہیں کرسکتا’۔
قبل ازیں انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر پیغام جاری کیا تھا کہ ’’میرا نام شفقت علی سومرو ہے. میں پی پی آئی نیوز ایجنسی میں ایڈیٹر ہوں. میرا بیٹا محمد شفاعت عمر 25 سال میکینکل انجنئیر سائٹ کراچی میں رلائنس ٹیکسٹائل انڈسٹری میں انٹرنشپ کرتا ہے۔
وہ جمعہ کے روز 10 مئی کو تقریباً 11 بجے گھر سے موٹر سائیکل نمبر کے ایچ زیڈ6454 پر نکلا لیکن فیکٹری بھی نہیں پہنچا اور ابھی تک واپس بھی نہیں آیا. اس کا موبائل فون 03352681872 بند مل رہا ہے‘‘۔ آپ سے درخواست ہے کہ محمد شفاعت کو تلاش کرنے میں مدد کی جائے. گھر والوں کی کیا کیفیت ہے اسے آپ بہتر سمجھتے ہیں۔ شکریہ
دوسری جانب صحافی برادری اور تنظیموں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں سے صحافی کے بیٹے کی باحفاظت واپسی کا مطالبہ کردیا.
