اسلام آباد میں زیادتی کے بعد قتل ہونے والے 10 سالہ قبائلی بچی فرشتہ مہمند کے کیس کا مرکزی ملزم گرفتار ہوگیا، اب تک اس کیس میں تین گرفتاریاں ہوچکیں۔
پولیس حکام کے مطابق فرشتہ مہمند کے ساتھ زیادتی کرنے والا مرکزی ملزم 14 سالہ چچازاد بھائی نکلا، ذرائع کے مطابق ملزم کی شناخت جبار خان مہمند کے نام سے ہوئی جس کا تعلق افغانستان سے بتایا جارہا ہے۔
پولیس نے مرکزی ملزم کو گزشتہ روز ہونے والی دو گرفتاریوں کے بعد ملنے والی معلومات کی روشنی میں گرفتار کیا، امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ معالے میں بڑی پیشرفت ہوگی۔
دوسری جانب آئی جی اسلام آباد نے جوڈیشل کمیٹی تشکیل دے دی جو 7 روز میں اپنی رپورٹ پیش کرے گی، بچی کے پوسٹ مارٹم میں زیادتی ثابت ہوگئی ہے ملزم کی شناخت کے لیے اُس کے حاصل کیے گئے نمونے ڈی این اے کے لیے بھیجے جائیں گے۔ یاد رہے کہ فرشتہ نامی بچی 15 مئی سے لاپتہ تھی اہل خانہ اُس کی ایف آئی آر درج کروانا چاہ رہے تھے مگر پولیس نے غفلت کا مظاہرہ کیا اور والد کو بولا کہ بچی بھاگ گئی ہوگئی انتظار کرلو خود سامنے آجائے گی۔
