Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
شدت پسندوں‌ اور زرداری سے ہوشیار۔۔۔ تحریر کامران رضوی | زرائع نیوز

شدت پسندوں‌ اور زرداری سے ہوشیار۔۔۔ تحریر کامران رضوی

 

بھارتی سازش پہ FATF کی عمارت نہیں کھڑی اور FATF بھارت کے خلاف کسی پڑوسی ملک کی سازش کو بھی اسی نگاہ سے دیکھتے ہیں جیسے بھارتی سازش کو مسلہ اصل یہ ہے کہ پاکستان آج ابھی تک داعش کی سازشوں سے بھی کوٸی احتیاط نہیں کر رہا اور ہر آنیوالے وقت میں ہمیں داعش اور شدت پسند تنظیموں سے خطرات لاحق ہیں مسئلے باتوں سے حل نہیں ہوتے ہمیں ملک کو مسلکی سیاست سے یا یوں کہہ لیں کہ ہمیں مذہبی و مسلکی تنظیموں سے ملک کو ازاد کرنا ہوگا اور انکے فنڈز کو عملاً اور مکمل بند کرنا ہوگا۔

اب اکتوبر سامنے ہے امیر قطر بھی پاکستان تشریف لائے، پاکستان میں قطر کی دلچسپی سر آنکھوں پہ لیکن امیر قطر شیخ تمیم بن حمد الثانی کا ملک کی سیاست و نوازشریف کی رہائی یا پاکستان بدری پہ بات مناسب نہیں اور بلکل ایسے ہی مریم نواز کا اپنے والد کو جیل میں تیسرا ہارٹ اٹیک ایک شرمناک بات ہے تیسرا ہارٹ اٹیک موت کو ویلکم کرتا ہے بیماری دو اٹیک تک رہتیٕ ہے۔

شدید اختلاف نوازشریف صاحب سے ہمیں بھی ہے لیکن ان سے دشمنی نہیں کے بیٹی ہونے کے باوجود تیسرے ہارٹ اٹیک کی بات یقین سے کی جائے، اوّل نوازشریف عمر کے جس حصے میں ہیں وہاں بیماریاں عام بات ہے لیکن وہ نوازشریف ہیں اس ملک کے تین بار وزیراعظم رہے ہیں اس لیے بیماریاں بھی انہیں کچھ سوچ کے لگیں گی۔

یہ بیماریاں تو ہم غریبوں کو ڈھونڈتی رہتی ہیں تو ہم اور بیماریاں ہمیں مبارک دوسری بات مسلم لیگ ن کا وارثت کا جھگڑا اب عروج پر ہے ایک طرف نوازشریف کا بھاٸ شہباز شریف اور دوسری طرف مریم نواز ہاہاہا بات بھاٸ اور بیٹی کی ہے سیاسی کارکن کی نہیں یہ ہے خاندان کا یا گھرانے کا مسلہ ہے ملکی سیاست کا نہیں۔

اب بات کچھ میثاق معیشت کی ہو جائے اور اور زرداری کی بھی جو صاحب خدا بنے بیٹھے ہیں ایک طہ شدہ بات ہے کہ مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف اور زرداری اپنی اپنی گرفتاریوں سے بہت خوفزدہ ہیں اور اپنی قومی اسمبلی کی بجٹ کے بعد تقریروں میں میثاق معیشت کو اپنی رہائی کی شرط سے خوبصورتی سے جوڑا ہے۔

زرداری نے تو ہاتھ پاؤں جوڑ کے پرانے معاملات کو ختم کرنے کا بھرپور اظہار بھی کردیا جبکہ شہباز شریف کی پوری تقریر میں نوازشریف اور خواجہ برادران کا زکر نہ ہونا یا نہ کرنا بھی عمران خان کے لیے کچھ سوچنے کے لیے ہے جس میں شہباز اور حمزہ شہباز کی بہتری نمایاں ہو بات وہی گھرانے کی ہے ملکی سیاست تو سمٹ چکی۔

اب بات ذات کی رہ گٸی ہے اور زرداری نے تو خود کو مہاجر دشمنی سے ایم کیو ایم پاکستان کی دشمنی سے نتھی کر لیا ہے اور جو باتیں وہ قومی اسمبلی میں تقریر کے بہانے کر رہئ تھے اس میں پیپلزپارٹی نہیں بلکہ ایک ذاتی جھگڑا بول رہا تھا سٸنیٹر رضا ربانی میرے لیے تو قابل احترام ہیں اور ان کی شرافت اور شریفانہ سیاست مجھے پسند بھی ہے لیکن جس طرح زرداری نے انکا نام لیا اور کہا کہ رضا ربانی کو بلا کر میں نے صدارتی اختیارت قومی اسمبلی کو دیے پارلیمنٹ کو دیے زرداری صاحب اپ سے کہیں سینیٹر پیپلز پارٹی کے کارکن و رہنما ہیں سینیٹر رضا ربانی لیکن اپ کسی کی عزت کریں ایسا کہاں ممکن؟

آپ تو وہ صاحب خدا بنے بیٹھے ہو سندھ میں کے اپکو کل کی تاریخ کا بھی نہیں پتہ برنس روڈ پہ بانی ایم کیو ایم نے اپنی ایک تقریر میں کہا تھا جب یہاں کراچی میں 86/87 میں پٹھان مہاجر فساد ہوا تھا مہاجر قلم کار تھا جبکہ اسلحہ پٹھانوں کا ذیور اس بات کو سامنے رکھتے ہوئے کے مہاجر اپنے ٹی وی اور فرج فروخت کر کے اسلحہ خرییں۔دکان یا ریڑھی نہیں زرداری صاحب جبکہ میرے خیال میں اگر میں اس وقت تقریر کرتا تو کہتا کے اسلحہ اصف زرداری سے لیں قومی اسمبلی میں مسلح سوچ کو زرداری نے جس طرح ٹھونسا ہے قابل افسوس بات ہے ایم کیو ایم چھوٹی بلکہ کوئی جماعت ہی نہیں ہے آپکی اسلحہ بردار سوچ آپکے مسلح غنڈے ایم کیو ایم تو ایک طرف رکھیں لالو کھیت ناظم اباد نیو کراچی لاٸنز ایریا لانڈھی کورنگی شاہ فیصل کالونی یا ملیر یہ سارے علاقے نہیں نہ ان میں کا کوئی ایک علاقہ بس انکا ایک محلہ اپکو اور آپ کے گھٹیا اور سطحی سوچ کو بدلنے کے لیے بہت ہے۔

ویسے میرپورخاص کی کوئی ایک گلی بھی آپکے اور آپکی جیسی سوچ کے لیے بہت ہے خیر ہم بات کر رہے تھے، میثاق معیشت کی جسے مرکزی حکومت نے بھی آگے بڑھایا ہے اور ملکی سیاست ایک بہتر انداز سے آگے بڑھنے کی حامی نظر اتی ہے لیکن اصل سیاست خارجہ اور داخلہ ہے جس میں اب تک حکومت ایک قدم اضافہ نہیں کر سکی اور بھارت پہ لعن طعن اپنی جگہ ہم سب ساری زندگی یہ کام کرتے رہیں گے لیکن یورپ برطانیہ اور امریکہ بھارت نہیں ہیں داعش کے گیارہ افراد کی ہلاکت وہ بھی پاکستان میں یہ خبر بھارت نے نہیں دی ہمارے میڈیا نے دی ہے خارجی امور ناکامی سے گزر چکا اور اب کھایہ میں جارہا ہے۔

داخلہ کا حال یہ ہے کہ چاروں صوبوں کی عوام قانون ہاتھ میں لینے کے لیے تیار ہیں ہم مریم نواز کو روک سکتے ہیں کے فوج کا نام لیے بغیر فوج کو سیاست میں گھسیٹنا برا عمل ہے مگر عوام کو مہنگائی میں جھونک کر ہم انہیں قانون سے لڑنے سے کیسے روک سکتے ہیں، زرداری اور فریال کا پالا ہوا ایک خود ساختہ سردار سے جو لیاری کا بلوچ وہ لیاری امن کمیٹی والا جس طرح اس نے اپنے بیان میں زرداری صاحب کو ملوث کیا ہے اور جو زبان زرداری قومی اسمبلی میں استعمال کر رہے ہیں ان کے اس عمل سے سندھ میں موجود غنڈہ عناصر نے اپنی تیاری مکمل کرلی ہے اور کہیں کوئی چھوٹی سی بھی بھول یا بے احتیاتی اردو اور گجراتی زبان بولنے والوں کے لیے اندرون سندھ مسلہ کھڑا کرسکتے ہیں۔

ایم کیو ایم پاکستان جس نے سندھ کا بجٹ مسترد کیا ہے اب اس پہ خاموشی عقلمندی کی دلیل ہے ایم کیو ایم کی سیاست میں پیش قدمی کا وقت موجودہ صورتحال میں مناسب نہیں ریاست کو اندرون سندھ میں موجود ملک دشمنوں کے لیے اپنا کام کرنا ہوگا ورنہ جو فساد ہوگا وہ سندھی مہاجر تو نہیں ہوگا لیکن تاثر مہاجر سندھی ہی ہوگا جبکہ اندرون سندھ اور کراچی میں زرداریوں کے ساتھ وہ پشین لڑینگے جسکے لیے لیاری کا خود ساختہ سردار جو گرفتار ہے لیاری امن کمیٹی والا کے ہم قاتلوں کو اسلحہ پشین سے ملتا تھا جی ہاں وہ پشین جو پٹھان بھی ہیں پشتون بھی ہیں پاکستانی بھی ہیں اور افغانی بھی سندھ کے ایک صوباٸ وزیر داخلہ ہوتے تھے ذولفقار مرزا انکی ایک ایم کیو ایم سے مہاجروں سے نفرت بھری تقریر تو اپکو یاد یوگی جس میں ذولفقار مرزا کراچی میں کھڑے ہوکر مہاجروں سے ہر قوم کو لڑوانے کا حکم دے رہۓ تھے وہ حکمت عملی زرداری کی تھی جسے قبل اذ وقت ذولفقار مرزا نے طشت اذبام کردیا ابھی یہ جو عید گزری ہے اس پر سی ویو پہ جو غنڈہ گردی مہاجر اور پنجابی فیملیز کے ساتھ کی گٸی کون تھے یہ غنڈہ گردی کرنے والے لوگ ؟ ذولفقار مرزا کی بات 2009 کی یا شاٸد 10 کی لیاری امن کمیٹی کی قتل و غارت کا بھی وقت اگے پیچھے کا ہے زرداری فریال اور ذولفقار مرزا امن کمیٹی کے بیک وقت تین سربراہ اور اسکے ساتھ کراچی بلاول ہاوس کے اگے پیچھے کچی ابادیاں جس میں وہ پشتون پختون پشین افغانی اباد ہیں جو اسفند یار ولی نے تحفطً زرداری کو دیے ہیں جنھیں زرداری پال رہا ہے یہ افغانی اندرون سندھ میں بھی موجود ہیں اور کراچی تو انسے بھرا پڑا ہے فساد کرینگے یہ افغانی اور چند زرداری گروپ کے لوگ جسے مہاجر پٹھان سندھی سمجھنے پر مجبور ہونگے اور زرداری کامیابی کے جھنڈے گاڑھے گا جبکہ پنجابی پختون بلوچی یا سندھی اس فساد سے دور ہوگا لیکن زرداری بھاٸ تم کرو اپنی پلاننگ ہم چھوٹی تعداد والوں سے ہم بھی پاکستانی ہیں اور ویسے بھی فلم تو ابھی بہت باقی ہے۔