اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت مین ڈاکڑ عمران فاروق قتل کیس کی سماعت ہوئی جس میں ایف آئی اے کی جانب سے برطانیہ سے حاصل کردہ شواہد کو عدالت میں پیش کیا گیا۔
عدالت نے نامکمل شواہد ہونے پر تمام دستاویزات ایف آئی اے کو واپس کیں اور گواہان کی فہرست نہ ہونے پر برہمی کا اظہار بھی کیا۔ جج شاہ رخ ارجمند نے ایف آئی اے وکیل سے استفسار کیا کہ شواہد کو پیش کرنے والے گواہ کون ہیں، اُن کی فہرست کو شواہد کا حصہ بنایا جائے۔
عدالت نے جے آئی ٹی رپورٹ پر بھی اعتراض کرتے ہوئے اسے سربمہر قرار دیا اور 9 اکتوبر تک مکمل شواہد بمعہ گواہان کی فہرست پیش کرنے کا حکم دیا۔ ڈاکٹر عمران فاروق قتل کی سماعت 9 اکتوبر تک ملتوی کردی گئی۔
