چین کی جیلوں‌ میں‌ قید ہزاروں‌ مسلمانوں‌ سے متعلق ہوشربا انکشافات

بیجنگ: بین الاقوامی خبررساں ادارے کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ چین کی جیلوں میں قید ہزاروں ایغور مسلمانوں کے ذہنی خیالات کو زبردستی تبدیل کردیا گیا۔

صحافیوں کی بین الاقوامی تنظیم (آئی سی جے) کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ چین کی سرکاری جیلوں میں قید قیدیوں سے متعلق سرکاری دستاویزات منظرعام پر لائی ہے جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ایغور مسلمانوں اور دیگر قیدیوں کی سوچ زبردستی تبدیل کی جارہی ہے۔

چین کی لیک ہونے والی سرکاری دستاویزات میں بتایا گیا ہےکہ سنکیانگ ریجن میں ایک کروڑ سے زائد ایغور مسلمان ہیں جنہیں حراستی مراکز میں رکھا گیا ہے، چینی حکام ان مراکز کو کنٹرول کرتے ہیں، ایغور مسلمانوں کے بال اور زبردستی داڑھی بناتے ہیں، جب کہ سنکیانگ ریجن کے کیمپوں میں رکھے گئے افراد کو موبائل فون رکھنے کی بھی اجازت نہیں ہے۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہےکہ سنکیانگ میں قائم ان مراکز میں رضاکارانہ طور پر تعلیم اور تربیت فراہم کی جاتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: