سانحہ کشمور، ماں اور چار سالہ بیٹی سے زیادتی کرنے والے ملزمان کو پولیس افسر نے کیسے گرفتار کیا؟

نوابشاہ: کراچی سے تعلق رکھنے والی خاتون اور اُن کی چار سالہ صاحبزادی علیشہ کو درندگی کا نشانہ بنانے والے پولیس افسر نے ڈرامائی انداز سے گرفتار کروایا۔
واضح رہے کہ کراچی کے جناح اسپتال میں ملازم کرنے والی خاتون کو چالیس ہزار روپے کی ملازمت کا لالچ دے کر 25 اکتوبر کو کشمور بلایا گیا تھا جس پر وہ اپنی چار سالہ بیٹی کے ساتھ وہاں چلی گئیں تھیں جس کے بعد تین ملزمان نے انہیں اور بیٹٰ کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ میڈیکل رپورٹ میں خاتون اور بچی کے ساتھ زیادتی کی تصدیق ہوگئی ہے۔
کشمور میں تعینات پولیس افسر (اے ایس آئی) محمد بخش نے عدالتی حکم کے بعد ملزمان کو گرفتار کرنے کے لیے دل پر پتھر رکھ کر اُن سے رابطہ کیا اور اپنی صاحبزادی کو بھیجنے کی پیش کش کی، یوں وہ درندہ صفت رفیق نامی ملزم کو گرفتار کرنے میں کامیاب ہوئے۔
پولیس حکام کے مطابق ملزم رفیق ملک نے دو ساتھیوں کے ساتھ مل کر خاتون اور چار سالہ بچی کو زیادتی کا نشانہ بنایا، ملزم کشمور کا رہائشی اور زمیندار ہے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر صارفین نے اس اندوہناک سانحے کے خلاف آواز بلند کی اور ملزمان کو گرفتار کر کے قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہ کیا۔
پاکستان میں ٹوئٹر پر ’سانحہ کشمور‘، ’کشمور‘، ’جسٹس فار علیشہ‘ نامی ہیش ٹیگ ٹاپ ٹرینڈ میں ہیں۔
Salute to ASI Muhammad Bakhsh who used his own daughter to call these criminals as a trap and get hold of whole gang.
The incident where a mother was trapped with her daughter on fraud of fake job by a rapist gang.#JusticeForAlisha#سانحہ_کشمور pic.twitter.com/l7Gp8jFEhN
— Khurram Sheikh (@khurramfakhar) November 12, 2020
جنگ اخبار کی رپورٹ کے مطابق پولیس افسر نے بتایا کہ خاتون کو 15 روز تک اغوا رکھا۔ اس دوران خاتون اوراس کی بچی کے ساتھ اغوا کار ریپ کرتے رہے۔ پندرہ روز بعد انہوں نے خاتون کو بچی کے بغیر رہا کیا اور کہا کہ وہ کراچی جا کر مزید خواتین لائے ورنہ اس کی بچی کو قتل کردیا جائے گا۔ متاثرہ خاتون نے کشمور پولیس کو اطلاع دی جس کے بعد پولیس ٹیم نے رفیق ملک کی رہائش گاہ پر چھاپہ مارا جہاں اس نے تین افراد کو دیکھا جن میں سے دو کی شناخت بطور محمد رفیق ملک اور خیراللہ بگٹی ہوئی جبکہ تیسرے کو پہچانا نہیں جاسکا۔
https://twitter.com/shahg74546778/status/1326754607054381056?s=20
کشمور پولیس نے رفیق ملک کے خلاف پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 376 (ریپ)، 344 (حبس بیجا)، 420 (دھوکہ دہی) اور 34 (مشترکہ ارادہ) کے تحت کیس رجسٹر کیا گیا ہے۔
