ایک اور وفاقی وزارت کی پیش کش پر ایم کیو ایم نے ہاتھ جوڑ‌ لیے، بڑا اعتراف

ایم کیو ایم نے ایک اور وفاقی وزارت کی پیش کش مسترد کردی

کراچی: ایم کیو ایم پاکستان نے وفاقی حکومت کی جانب سے کی جانے والی ایک اور وفاقی وزارت لینے سے انکار کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ ایک ہی وزارت کا بوجھ اُن پر بہت زیاد ہے، جس کا وزن برداشت نہیں کیا جارہا ہے۔

ذرائع کو ملنے والی اطلاع کے مطابق ایم کیو ایم اور تحریک انصاف کی قیادت کے درمیان ایک بار پھر رابطہ، جس میں دونوں جماعتوں نے اسی طرح متحدہ رہ کر ساتھ چلنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ اس موقع پر تحریک انصاف کی جانب سے ایم کیو ایم کو وفاقی کابینہ میں ایک اور وزارت دینے کی پیشکش کی گئی۔ یہ پیشکش کابینہ کے سینئیر وزیر کی جانب سے کی گئی۔

سینئیر وزیر کی جانب سے ایم کیو ایم کو کابینہ میں وزارت آبی وسائل کی پیش کش کرتے ہوئے ڈاکٹر خالد مقبو صدیقی سے نام مانگا گیا، ایم کیو ایم نے اتحادی جماعت تحریک انصاف کی وزارت کی پیشکش کو مسترد کردیا اور اعتراف کیا کہ ’ہمیں مزید کوئی وزارت نہیں چاہیے، ایک وزارت کا سیاسی بوجھ نہیں سنبھال پا رہے‘۔

سیاست میں بڑی ہلچل، ذوالفقار مرزا کو گورنر سندھ لگائے جانے کا امکان

ایم کیو ایم ذرایع نے بتایا کہ ’تحریک انصاف کو جواب دیا گیا ہے کہ کراچی کے شہریوں کو روزگار مل رہا ہے نہ مسائل حل ہورہے ہیں، کے پی ٹی میں نوکریاں آتی ہیں تو اس میں کراچی والوں کے لیے جگہ نہیں ہوتی، پہلے لوگوں کے مسائل کو حل اور نوجوانوں کو روزگار دینے سمیت دیگر کیے گئے وعدے پورے کریں، وزارت سے کیا عوام کی خدمت ہوگی ، کراچی کی عوام کو کیا جواب دیں گے۔