نفاذ اردو کی اہمیت، تحریر کائنات فاروق

نفاذ اردو کی اہمیت
تحریر: کائنات فاروق

اردو زبان نہ صرف پاکستان کی قومی زبان بلکہ برصغیر کی معیاری زبانوں میں سے ایک ہے۔ یہ پاکستان کی قومی اور رابطہ عامہ کی زبان ہے، جبکہ بھارت کی چھے ریاستوں کی دفتری زبان کا درجہ رکھتی ہے۔ آئین ہند کے مطابق اسے 22 دفتری شناخت زبانوں میں شامل کیا جاچکا ہے۔ دیکھا جائے تو اردو زبان کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ اردو زبان

میں ہی پاکستان بنایا تھا اردو نہ ہوتی تو شاید پاکستان کی تحریک بھی کامیابی کی منازل طے نہ کر پاتی اردو زبان نہ ہوتی تو تحریک آزادی کے رہنماوں کا پیغام گھر گھر نہ پہنچ پاتا یہ اردو ہی تھی جس کے سبب تحریک آزادی کے رہنما مافی الضمیر اور موقف باآسانی عوام تک پہنچا پاتے تھے یہ اردو ہیں جس کے ذریعے تحریک پاکستان کے قلم کاروں نے اپنی تحریروں کے ذریعے عوام کے قلب کو گرما، روح کو تڑپا، ادیب اور شعراء نے اپنے دل کے جذبات اور پیغامات کو الفاظ میں ڈھال کر بارود کی سرنگیں بچھا دی تھی مسلمانوں کی بیداری اردو ہی کے سبب ممکن سیکی برصغیر ہند کے مسلمانوں کے رابطے کا ذریعہ اردو ہی تھی، یقین اردو نہ ہوتی تو تقسیم بھی نہ ہوتی پاکستان بھی نہ ہوتا اردو نے قیام پاکستان کو ممکن بنایا۔ بقول شاعر:
اردو ہے میرا نام میں خسرو کی پہیلی
میں میر کی ہمراز ہوں غالب کی سہیلی
اردو ہے میرا نام میں خسرو کی پہیلی
دکّن کے ولی نے مجھے گودی میں کھلایا
سودا کے قصیدوں نے میرا حسن بڑھایا
ہے میر کی عظمت کہ مجھے چلنا سکھایا
میں داغ کے آنگن میں کھلی بن کے چنبیلی
اردو ہے میرا نام میں خسرو کی پہیلی
غالب نے بلندی کا سفر مجھ کو سکھایا
حالی نے مروت کا سبق یاد دلایا
اقبال نے آئینہ حق مجھ کو دکھایا
مومن نے سجائی میرے خوابوں کی حویلی
اردو ہے میرا نام میں خسرو کی پہیلی
کیوں مجھ کو بناتے ہو تعصب کا نشانہ
میں نے تو کبھی خود کو مسلماں نہیں مانا
دیکھا تھا کبھی میں نے بھی خوشیوں کا زمانہ
اپنے ہی وطن میں میں ہوں مگر آج اکیلی
اردو ہے میرا نام میں خسرو کی پہیلی
وطن عزیز پاکستان کی قومی زبان کے تعین کے لیے دنیا کی چوتھی بڑی زبان اردو ہی کا انتخاب کیا گیا۔
“اردو ہے جس کا نام ہمیں جانتے ہیں داغ
سارے جہاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے”
پاکستان کی قومی زبان کے ساتھ نامناسب اور ہتک آمیز رویہ اختیار کیا جانے لگا جس زبان کے نام پر ملک حاصل کیا گیا تھا اسے ایک کونے میں کر دیا گیا اردو کو قومی زبان کب سرکاری زبان کا درجہ بھی دیا جا چکا ہے مگر محض آئین کی حد تک اردو زبان اور اس کے بولنے والوں نے ملک کی تمام قومیتوں اور برادریوں کو ایک لڑی میں پرویا ایک سانچے میں ڈھال دیا ہے اردو زبان میں کراچی سے کشمیر تک پل کا کام سرانجام دیا ہے۔
میں اردو زباں ہوں میں اردو زبان ہوں
گاؤں شہروں شہروں بیداری پھیلائی
آسانی سے میرا مرنا ممکن کب ہے بھائی
میرے چاہنے والوں کا خواب ملک کی بھلائی
یہ اردو زبان ہی ہے جس نے قوم کے اتحاد کو پارہ پارہ ہونے سے بچایا ملک میں بولی جانے والی تمام علاقائی زبان بہت خوبصورت ہیں ان کی اپنی جداگانہ اہمیت ہے وہ اپنی خوشبو رکھتی ہیں مگر ملک ترقی ہمیشہ اپنی قومی زبان کے مکمل نفاذ کے بعد ہی کرتے ہیں۔ دنیا بھر کے ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ بچے کی تعلیم کا بہترین ذریعہ اس کی مادری زبان ہے مگر اردو کے ساتھ تعصب برتنے والی سندھ کی ایک جامعہ نے اردو پر پابندی لگائی اور اقرباء کو سندھی اور انگریزی میں اظہار پر مجبور کیا۔
“دنیا میں یوں تو اور بھی زبانیں ہیں مگر
وہ چاشنی نہیں جو اردو زبان میں ہے”
دولت اور وسائل کی عادلانہ تقسیم ایک بہت بڑی نعمت ہے ان کا ایک يا چند طبقوں تک محدود ہوجانا ملک کے لیے بہت بڑا عذاب ہے۔ اردو زبان صحیح معنوں میں نافذ کرکے ہی بالادست طبقے کی چوھدراہٹ سے نجات ممکن ہے۔ اردو کو قومی زبان کے بعد سرکاری زبان قرار دینے کے بعد مجبوری میں ملک کی اشرافیہ اور اعلی سرکاری حلقوں میں صورتحال تشویشناک پائی جاتی ہے۔
تعصب کے عینک پہنے ملک کے غریبوں کے لئے حکمت عملی بنانے والے افسران کا یہ حال ہے کہ وہ جانتے نہیں کہ اردو زبان تو محبت کی زبان ہے جو چار سو پھیل رہی ہے اردو ملک کے 98 فیصد غریب اور محکوم عوام میں بولی اور سمجھی جاتی ہے اسے ملک کے 98 فیصد مظلوم اور حقوق سے محروم طبقے کی زبان بھی کہا جاتا ہے۔ اسے عزت دی جائے تو قوم اور ملک کی عزت ہوگی اردو زبان کے ساتھ ملک میں سوتیلے پن کا سلوک بند کیا جانا چاہیے اعلی سرکاری سطح پر مراسلات اور خط و کتابت بھی قومی زبان میں کی جائے اردو زبان کے مکمل طور پر رائج کرنے میں ہی ملک کی ترقی کا راز چھپا ہے۔
نفاذ اردو سے متعلق حال ہی میں وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان کا بیان نہایت ہی قابل ستائش ہے۔ اس پر عمل درآمد ہوتا ہوا دکھائی دے۔
تعصب کی عینک اتار کر پاکستان میں تمام زبانیں بولنے والے لوگ اگر اردو سے دل سے محبت کرنے لگے تو یہ ملکی اتحاد کا سب سے بڑا ذریعہ ہوگا۔


نوٹ: آپ اپنی خبریں، پریس ریلیز ہمیں ای میل
zaraye.news@gmail.com پر ارسال کرسکتے ہیں، علاوہ
ازیں آپ ہمیں اپنی تحاریر / آرٹیکل اور بلاگز / تحاریر / کہانیاں اور مختصر کہانیاں بھی ای میل کرسکتے ہیں۔ آپ کی بھیجی گئی ای میل کو جگہ دی جائے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: