کراچی کا سیاسی خلا اور سابق یونٹ انچارج۔۔ رضوان طاہر مبین

کراچی سیاسی خلا اور ’سابق یونٹ انچارج‘!۔۔۔ خصوصی رپورٹ رضوان طاہر مبین

بعض منفرد چیزیں ایک کونسلر کے حلقے کو بھی باقی شہر اور ملک کے لیے قابل توجہ بنا دیتی ہے جیسے ’کنٹونمنٹ بورڈ کلفٹن‘ (CBC) کے وارڈ 8 میں آزاد امیدوار بابر جمال نے 1434 ووٹ لے کر میدان مار لیا، مدمقابل جماعت اسلامی کے حریف علی اعجاز نے 1310 ووٹ لیے جب کہ متحدہ قومی موومنٹ، پیپلز پارٹی، پاک سرزمین پارٹی، فنکشنل لیگ سمیت کُل 11 امیدوار میدان میں تھے کراچی جیسے شہر میں کونسلر کی سطح سے بھی کسی آزاد امیدوار کا فتح یاب ہونا ایک اہم خبر ہے یہی وجہ ہے کہ دیگر علاقوں کے رہنے والے ’اس آزاد امیدوار کے پیچھے ہے کون؟‘ جیسے سوال پوچھتے ہوئے نظر آئے، جس کا بہت سادہ اور واضح سا جواب تھا کہ واقعی کوئی بھی نہیں
لیکن یہ جواب درست ہونے کے باوجود نامکمل ہے، کیوں کہ بابر جمال کوئی دس، بارہ سال پہلے ’ایم کیو ایم‘ کے ایک فعال ’یونٹ انچارج‘ رہے ہیں ہر چند کہ وہ پانچ سال سے اپنی سابقہ جماعت سے دور ہیں، لیکن علاقے کے مسائل کے حوالے سے آج بھی ایک جانے مانے فرد سمجھے جاتے ہیں جب سے بابر آزاد امیدوار کے طور پر قسمت آزما رہے تھے، ہم سوچ رہے تھے کہ ان کے حوالے سے ایک ذاتی تاثر سپردِقلم کریں، لیکن بوجوہ گریز کیا۔ اب جب کہ وہ منتخب ہو چکے ہیں، تو یہ مشاہدے قارئین کے سامنے لانے میں کوئی حرج نہیں ہوا یوں کہ 2002ءکے عام انتخابات میں ہمارے حلقے سے ایک سابق میئر کراچی سرخرو ہوگئے ہم نے اس انتخابی مہم کے دوران جہاں پہلی بار مولانا شاہ احمد نورانی، مخدوم امین فہیم، نثار کھوڑو اور نسرین جلیل وغیرہ کو دیکھا، ممنون حسین اور سلیم ضیا سے مصافحے کیے، وہیں سابق میئر عبدالستار افغانی بھی انتخابی مہم پر بڑے طمطراق سے ہمارے محلے میں جلوہ افروز ہوئے اور ہم ان سے بھی ملے پھر وہ رکن قومی اسمبلی منتخب ہوگئے، لیکن اس کے بعد ان کا رابطہ آفس ہمارے محلے کا دفتر نظرانداز کر کے ذرا دور جا کر بنایا گیا، اب خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ صوبائی اسمبلی کی نشست ’ایم کیو ایم‘ کے نام ہوگئی، لیکن ہم نے صوبائی رکن اختر بلگرامی کو صحیح معنوں میں دیکھا ہی منتخب ہونے کے بعد۔ بدقسمتی سے ان دنوں محلے میں پانی کا شدید بحران پیدا ہوگیا یہ ایک نئی اور غیر متوقع افتاد تھی لوگ پانی کے انتظار میں رات رات بھر جاگتے تھے صورت حال یہ ہوتی کہ پانی کے بحران کے نتیجے میں گلی، گلی ’جاگ‘ ہونے لگی، ظاہر ہے، ہر گھر اور بلڈنگ میں جس شخص کے ذمے بھی پانی بھرنا ہے، اسے تو اپنی ذمہ داری نبھانی ہی ہے، تو ایک سے دو بھلے اور دو سے چار، یوں رات گئے، ایک بیٹھک سی لگ جاتی کہ پانی آیا، نہیں آیا، پریشر کیسا ہے، پانی صاف ہے، چلو وال دیکھ کر آتے ہیں، وال مین سے کچھ سُن گن لیتے ہیں کبھی تو تنگ آکر گلی والے خود بھی وال سے چھیڑ خانی کر جاتے کہ کسی طرح ہماری موٹروں میں پانی آجائے ساتھ ساتھ یہ جدوجہد بھی تھی کہ منتخب نمائندوں تک پہنچا جائے، ہمارے منتخب رکن قومی اسمبلی عبدالستار افغانی نے علاقے کو اپنی دست یابی کے حوالے سے بری طرح مایوس کیا، اور ہم نے انھیں منتخب ہونے کے بعد ایک مرتبہ بھی نہیں دیکھا، ایک دو بار محلے سے دور ان کے رابطہ دفتر تک درخواست وغیرہ لے کر گئے، تو وہاں بھی وہ کبھی نہ ملے، کبھی پتا چلا فلاں وقت یا فلاں دن آئیں گے، ابھی تو اسلام آباد گئے ہوئے ہیں ہمیں سمجھ میں نہیں آیا کہ کیا کوئی وعدے وعید کر کے ایسا بھی کرتا ہے لیکن یہ ایک تلخ حقیقت تھی، دوسری طرف ’متحدہ‘ تھی، جس پر یہ الزام بھی تھا کہ وہ قومی اسمبلی کی نشست پر شکست کا بدلہ لینے کے لیے ہماری طرف کا پانی بند کر رہی ہے، بہرکیف اس کے نمائندے محلے میں موجود رہتے تھے، باقاعدہ دفتر بھی آباد تھا اور تب ’یونٹ انچارج‘ یہی بابر جمال تھے عام طور پر ’یونٹ انچارج‘ اور ’سیکٹر انچارج‘ خوف کی علامت کہے اور سمجھے جاتے تھے، اس اعتبار سے بلاشبہ بابر جمال کا رعب اور ایک مقام تو تھا، لیکن مجموعی طور پر ہم نے انھیں بہت مناسب، پڑھا لکھا اور سمجھ دار پایا راتوں کو جب ہم بار بار موٹریں چلا کر دیکھتے تھے کہ پانی آیا یا نہیں، تو وہی رات کے تین، ساڑھے تین بجے بھی ہمیں سننے اور حوصلہ دینے کو آ موجود ہوتے پانی کی عدم دست یابی کی تیکنیکی تفصیل کو بتانا، کنٹونمٹ بورڈ کی دستاویزات اور کاغذات سے مسائل کی وجہ سمجھانے کی کوشش کرنا اور کچھ امید دلانا بلاشبہ یہ اُس وقت کے قابل ذکر عمل ہیں۔ یہی نہیں ’کنٹونمنٹ‘ کے بلامعاوضہ ٹینکروں سے ہمارے گھروں میں پانی دلوانا، کبھی اور کسی بلدیاتی امور کی نگرانی کرنا بھی ان کے معمولات میں شامل تھا۔ علاقے میں مسائل حل کرتے کراتے کبھی کچھ تنازعات بھی پیدا ہو جاتے، جس میں کبھی ان سے کوئی زیادتی ہوئی، تو انھوں نے اس کی معافی بھی مانگی ایک مرتبہ کا ذکر ہے کسی جلسے وغیرہ کی غرض سے راستہ بند کیا گیا تھا، لیکن محلے کی پیپلز پارٹی کی ایک سینئر کارکن کی گاڑی آگئی اور انھوں نے اصرار کیا کہ وہ ہر صورت گاڑی یہیں سے نکالیں گی، بابر بھائی نے انھیں نہ صرف راستہ دلوایا، بلکہ انھیں احترام سے سیلوٹ بھی کیا۔
اسی عرصے میں محلے میں جماعت اسلامی کے ایک سینئر کارکن کا انتقال ہوا، تو ہم ان کے نمازِ جنازہ میں بابر کو مع رکن صوبائی اسمبلی دیکھ کر حیران رہ گئے تھے کہ یہ جس سیاسی مخالف کی میت میں آئے ہیں، وہ ہمارے گھر کی طرف 1990ءکی دہائی میں الطاف حسین کی گاڑی کا شیشہ کھٹکا کر اندر ’تکبیر‘ رسالہ ڈال کر بھاگ گئے تھے، جس میں اُن کے خلاف سخت مواد شایع ہوا تھا! بتایا جاتا ہے کہ اس واقعے کے بعد شدید کشیدگی بھی پھیل گئی تھی۔
عید قرباں پر بابر خود بھی کھالیں جمع کرتے تھے، لیکن غالباً ان کے زمانے میں کبھی کھالیں چھیننے کا کوئی مشاہدہ نہ ہوا، یہ ضرور تھا کہ لڑکوں کی طرف سے اصرار یا ضد کی نوبت آجاتی تھی، لیکن بعد کے کچھ برسوں میں باقاعدہ زور آزمائی کے بہت بُرے مظاہرے دیکھے گئے بدتمیزیوں کے حوالے سے بھی معاملات خراب تر ہوئے، عوامی شکایات پر ذمہ داران کے لب ولہجے ایسے ہونے لگے کہ گویا ہم ان کے کوئی نچلے درجے کی رعایا ہوں! تب کئی لوگوں سے بطور سابق یونٹ انچارج بابر کے لیے نیک کلمات سنے ہمارے محلے کے نصیب میں پانی کے طویل بحران تو لکھ ہی دیے گئے، تب بے ساختہ یاد آیا کہ کوئی تھا، جو بات تو سنتا تھا، جو محلے کی خواتین کی جانب سے شکایت یونٹ آفس لے جانے پر بھی یہ کہتا کہ ”باجی، جو مسئلہ ہو ہمیں بتا دیا کریں، آپ وہاں جاتی ہیں، تو ہماری بدنامی ہوتی ہے!“
بہرحال، یہاں کسی کا قصیدہ پڑھنا مقصود نہیں، فقط قارئین کو یہ بتانا ہے کہ ایلے میلوں اور منہ میں گٹکا دبائے اور بدتمیزی سے پیش آنے والوں کے علاوہ کچھ بہتر لوگ بھی ہوا کرتے تھے، یہی وجہ ہے کہ اب بابر نے ذاتی حیثیت میں علاقے کے مسائل حل کرنے کا بیڑا ٹھایا، تو لوگوں نے انھیں اپنے اعتماد سے نوازا ہے۔ ہم نے دیکھا کہ محلے کے نوجوانوں نے بابر کی انتخابی مہم میں بھرپور کردار ادا کیا، ایسا کہ مایوسی کے اندھیاروں میں امید کی ایک کرن دکھائی دینے لگی، کیوں کہ کراچی کا سیاسی خلا اب تک پُر نہیں ہو سکا ہے، بلکہ دیگر جماعتوں کے اثر رسوخ بڑھنے سے الٹا برے تاثر والے افراد ان کے کاررواں میں شامل ہو کر محلے داروں کے لیے علاحدہ دردِ سری بن رہے ہیں، جسے لوگ ’اچھا ہے، سب آرہے ہیں‘ کہہ رہے ہیں اس کے پردے میں جرائم اور بَھتّوں کی الگ تاریخ رقم ہو رہی ہے! ایسے میں بابر جمال نے نہایت متوازن انداز میں اپنے محلے کی نبض پر ہاتھ رکھا، کسی زور آزمائی اور اوچھے ہتھ کنڈوں کے بہ جائے اپنی شخصیت، ماضی کی کارکردگی اور حال کی کوششوں سے لوگوں کے دل جیت لیے۔ ہم کہہ سکتے ہیں کراچی کی موجودہ سیاسی تاریخ میں انھوں نے ایک نیا باب رقم کیا ہے اور باقی شہر کے لیے بھی یہ پیغام دیا ہے کہ اگر اس طرح تعلیم یافتہ اور صاف کردار کے حامل لوگ آگے بڑھ کر اس سیاسی گھٹن اور خالی پن کو پُر کرنے کی کوشش کریں گے، تو کراچی والے تو شاید اسی انتظار میں ہیں کہ کوئی ایسا آگے آئے، جس کا مصنوعی بندوبست نہ کیا گیا ہو، اس پر کسی کا ’ہاتھ‘ نہ ہو، اس کی ’ڈوریں‘ کسی کے پاس نہ ہوں، وہ منہ سے آگ نکالنے اور اپنے پچھلوں پر طعنے تشنوں کے بہ جائے یک سوئی سے مستقبل پر نظر رکھے اور ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھتے ہوئے اپنے لوگوں کا حال بہتر کرنے کی کوشش کرے بابر جمال نے آزاد امیدوار کے طور پر اس فتح سے بتا دیا ہے کہ موجودہ سیاسی صورت حال میں کسی سیاسی جماعت اور کسی اور مسیحا کے انتظار کے بغیر اپنے زور بازو سے بھی بہت کچھ کیا جا سکتا ہے۔

نوٹ: یہ رپورٹ ایکسپریس اخبار کے 3 اکتوبر کے سنڈے میگزین میں شائع ہوئی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: