کراچی:امیرجماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے مطالبہ کیا ہے کہ 15جنوری کو کراچی میں ہر صورت میں انتخابات کروائے جائیں،الیکشن کمیشن پاکستان اور الیکشن کمیشن سندھ نے سندھ حکومت کو سیاسی تقرریوں کے خلاف خط ارسال کیا لیکن سندھ حکومت کے کان پر جوں تک نہیں رینگ رہی، پیپلزپارٹی اپنی طاقت کے نشے میں خلاف آئین اقدامات کررہی ہے۔
انہوں نے کہاکہ الیکشن کمیشن اپنی عمل داری کو قائم کر کے اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے خلاف آئین اقدامات پر توہین عدالت عائد کرے اور 15جنوری کو بلدیاتی انتخابات میں پولنگ اسٹیشن کے باہر فوج اور رینجرز کے اہلکاروں کو تعینات کرے۔آئین کے آرٹیکل 220کے تحت چیف الیکشن کمشنر پولنگ اسٹیشنز پر فوج اور رینجرز کے اہلکاروں کاتعینات کرسکتے ہیں، 8جنوری کو شاہراہ قائدین پر تاریخی جلسہ عام ہوگا،جس میں اعلان کراچی اورکراچی کے حقوق کے حصول کے لیے لائحہ عمل پیش کیا جائے گا۔
ادارہ نورحق میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا مزید کہنا تھاکہ پارٹیوں کے جوڑ توڑ سے ان کے ورکرز اورسپورٹرزمیں مایوسی پھیل رہی ہے پارٹی ورکرز مایوس نہ ہوں،کسی صورت میں بھی الیکشن سے فرار نہیں ہونے دیں گے،جماعت اسلامی کے دروازے سب کے لیے کھلے ہیں، ہم دیگر پارٹیوں کی طرح اکیلا چھوڑ کر نہیں جائیں گے اور عوام کے ساتھ مل کرعوام کے حقوق حاصل کریں گے۔
حافظ نعیم الرحمن نے مزیدکہاکہ شہر میں ڈاکو اور لٹیرے کھلے عام دندناتے پھررہے ہیں، دن دیہاڑے پولیس تھانے کے سامنے چائے کے ہوٹل پر وارداتیں ہورہی ہیں،شہر میں پولیس کی سرپرستی میں کھلم کھلا منشیات کے اڈے چل رہے ہیں،گزشتہ دنوں منشیات فروخت کرنے سے منع کرنے پر ایک ہی گھر کے تین سگے بھائیوں کو گولی مار کرقتل کردیا گیا اور منشیات فروش کا کہنا تھا کہ جب میں ایس ایس پی اور تھانہ پولیس کو پیسے دیتاہوں تو تم کون ہوتے ہو مجھے منع کرنے والے؟، پولیس چیف کہتے ہیں کہ ڈاکوؤں اور لٹیروں کے سامنے مزاحمت نہ کریں تو ہم پوچھنا چاہتے ہیں کہ آخر کراچی کا شہری کیا کرے؟،پیپلزپارٹی براہ راست 15سال سے سندھ میں حکومت کررہی ہے لیکن کراچی کے شہریوں کو امن تک نہیں دے سکی۔
