کراچی، لاہور: کراچی اور سندھ کے دیگر علاقوں میں بلدیاتی الیکشن کے دوسرے فیز میں دھاندلی کیخلاف امیر کی اپیل پر جماعت اسلامی نے ملک بھرمیں مظاہرے کئے اور احتجاجی ریلیاں نکالیں۔
مرکزی نظم کے اجلاس سے خطاب میں امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے اس عزم کا اظہار کیا کہ کراچی کا میئر جماعت اسلامی کا ہو گا، بعض سیٹوں پر دھاندلی کے مکمل ثبوت موجود ہیں، جماعت اسلامی کا راستہ روکنے کی سازش کی گئی، پیپلزپارٹی نے عوامی مینڈیٹ چرایا۔
منصورہ میں مرکزی نظم کے اجلاس کی صدارت سراج الحق نے بذریعہ زوم پشاور سے کی اور سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی امیر العظیم نے کراچی سے شرکت کی۔ نائب امرا لیاقت بلوچ، ڈاکٹر فرید پراچہ، راشد نسیم، ڈاکٹر معراج الہدیٰ صدیقی اور اسد اللہ بھٹو،ڈپٹی سیکرٹری جنرل محمد اصغر، اظہر اقبال حسن، وقاص جعفری اور سیکرٹری اطلاعات قیصر شریف نے منصورہ سے اجلاس میں شرکت کی۔
صدر الخدمت فاؤنڈیشن ڈاکٹر حفیظ الرحمٰن اور ڈائریکٹر شعبہ امور خارجہ جماعت اسلامی آصف لقمان قاضی بھی اجلاس میں شریک تھے۔ کراچی میں بلدیاتی انتخابات اور آئندہ کی صورتحال کے یک نکاتی ایجنڈا پر ہونیوالی میٹنگ میں امیر جماعت اسلامی سندھ محمد حسین محنتی اور امیر کراچی حافظ نعیم الرحمٰن نے کراچی سے خصوصی شرکت کی۔
سراج الحق نے مزید کہا کہ واضح کرنا چاہتا ہوں جماعت اسلامی ہی کراچی کی سب سے بڑی پارٹی ہے، صوبہ سندھ کی حکمران جماعت جب تک اس حقیقت کو تسلیم نہیں کرتی، ہمارا عوامی مینڈیٹ واپس نہیں ملتا، پیپلزپارٹی سے کسی قسم کی بات چیت نہیں ہو گی، دیگر تمام جماعتوں اور آزاد امیدواروں سے مذاکرات کے تمام آپشن کھلے ہیں، جماعت اسلامی ڈائیلاگ پر یقین رکھتی ہے، امید ہے پیپلزپارٹی جماعت اسلامی کا مینڈیٹ قبول کریگی۔ آر اوز نے ہمارا مینڈیٹ واپس نہ کیا تو پورے پاکستان کو جام کر سکتے ہیں، جب بھی تاریخ دیں تو عوام اسلام آباد پہنچیں، کارکن اگلے اعلان کا انتظار کریں۔
سید منور حسنؒ، پروفیسر غفورؒ، عبدالستار افغانیؒ، نعمت اللہ خانؒ جماعت اسلامی اور کراچی کے عظیم سپوت تھے، شہدا کی قربانیاں رنگ لے آئیں، شہر اپنے اصل کی طرف لوٹ آیا۔ حافظ نعیم الرحمٰن نے مرکزی نظم کو الیکشن اور بعد کی صورتحال کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ بعض سیٹوں پر جماعت اسلامی کے امیدواروں کیخلاف دھاندلی کے واضح ثبوت موجود ہیں۔
پولنگ اسٹیشنوں سے ملنے والے فارمز پر جماعت اسلامی کے امیدوار کامیاب ہوئے مگر بعد میں الیکشن نتائج میں ردوبدل کیا گیا۔دریں اثنا سندھ کے بلدیاتی الیکشن میں دھاندلی کیخلاف اسلام آباد، راولپنڈی، لاہور، پشاور، کراچی، کوئٹہ، فیصل آباد، ملتان اور دیگر شہروں میں احتجاجی ریلیوں اور مظاہروں میں جماعت اسلامی کے کارکنوں اور دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعدادمیں شرکت کی اور حکمرانوں ، مہنگائی اور حکومتی پالیسیوں کیخلاف نعرے بازی کی۔
