اسلام آباد : صدر مملکت عارف علوی نے ملک کے علمائے کرام اور مشائخ پر زور دیا ہے کہ وہ قرآن، سنت اور احادیث نبویؐ کی روشنی میں اسلام کی حقیقی تعلیمات اجاگر کرکے انتہا پسندی، دہشتگردی اور فرقہ واریت کے خاتمے کیلئےاپنا کردار ادا کریں۔
ایوان صدرمیں صدر مملکت نےعلماءمشائخ یکجہتی کونسل آف پاکستان کے چیئرمین قاری ہدایت اللہ میرانی کی قیادت میں ملنے والے وفد سے گفتگو میں کہا کہ پاکستان میں دہشتگردی اور عسکریت پسندی کے چیلنجزسے نمٹنے کےلئے انسداد انتہا پسندی اور انسداد دہشتگردی کے شعبوں میں علمائے کرام کی جانب سے مشترکہ کوششوں کے ساتھ ایک جامع ایکشن پلان کی ضرورت ہے۔
انہوں نے علمائے کرام پر زوردیتے ہوئے کہا کہ علمائے کرام و مشائخ مثبت سماجی تبدیلی لانے کیلئے اپنا کردار ادا کریں، معاشرے میں انتہا پسندی، دہشت گردی اور فرقہ واریت کی حوصلہ شکنی کرنے کی ضرورت ہے، علماء اخلاقی اقدار ، وسائل کی بچت کے فروغ میں اپنا کردار ادا کریں۔
انہوں نے کہا کہ علمائے کرام قومی یکجہتی، مذہبی رواداری اور بین المذاہب ہم آہنگی اور امن کو فروغ دیں۔انہوں نے کہا کہ یہ مذہبی سکالرز کی ذمہ داری ہے کہ وہ اسلام کی حقیقی تعلیمات کو لوگوں بالخصوص ملک کے نوجوانوں میں عام کریں، سماجی اصلاحات لائیں اور معاشرے میں نیکی ور اخلاقیات کو فروغ دیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نظم و ضبط، استقامت، اخلاقی راست بازی اور سماجی انصاف کو فروغ دے کر ترقی کرسکتا ہے اور اقوام عالم میں اپنا صحیح مقام حاصل کرسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ علمائے کرام کو معاشرے سے تفریق کو دور کرنے کیلئے ٹھوس کوششیں کرنی چاہئیں اور ملک میں اتحاد و یکجہتی کو فروغ دینا چاہئے۔ وفد میں محمد یونس قریشی، مولانا گل ولی، میجر احتشام الدین کیانی، پروفیسر عبدالغفار شاہ بخاری، عبدالرحیم عباسی، نور الٰہی، فہد مقصود، حمید اللہ خان، شیخ مظہر حسین، شیخ ضیاءالرحمن، علامہ مفتی محمود احمد تبسم، اور جمال خان شامل تھے۔
صدر عارف علوی نے بنوں میں دھماکے میں شہید ہونے والے سپاہی گل شیر کے والد سے ٹیلیفونک رابطہ کرکے اظہار افسوس کیا ہے۔صدرمملکت نے سپاہی گل شیر شہید کے لواحقین سے اظہارِ ہمدردی اور وطن کی خاطر جان کا نذرانہ پیش کرنے پر شہید کو خراج ِعقیدت پیش کیا۔
اس موقع پر شہید کے والد نے صدر مملکت کو شہید گل شیر کے جذبہ شہادت کے بارے میں بتایا اور وطن عزیز کی خاطر قربان ہو جانے کے اپنے اور اپنے خاندان کے عزم کا اعادہ کیا۔صدر مملکت نے شہید کے خاندان اور شہید کے جذبہ حب الوطنی کو سراہا۔
