کراچی :سرجانی ٹاؤں میں ڈکیتی کی واردات کے دوران مزاحمت پر ڈاکوؤں کی فائرنگ سے زخمی ہونے والا نوجوان دم توڑگیا ،جاں بحق ہونے والا نوجوان پانچ بہن بھائیوں میں سب سےبڑا اورگھرکا واحد کفیل تھا ،رواں سال ڈکیتی کی واردات کے دوران جاں بحق ہونے والے افراد کی تعداد 14 ہو گئی ۔
بدھ کوسرجانی ٹاؤن تھانے کے علاقے سرجانی ٹاؤن لیاری 36 ٹینکی اسٹاپ کے قریب ایل پی جی سلنڈر کی دکان میں ڈکیتی کی واردات کے دوران مزاحمت پر ڈاکوؤں نے فائرنگ کر کے 34 سالہ عبدالعظیم ولد عبدالکلیم اور 32 سالہ شرجیل ولد شبیر کو زخمی کردیا تھا جنہیں فوری طور پر عباسی شہید اسپتال منتقل کردیا گیا بعدازاں فائرنگ سے زخمی ہونے والے شرجیل کو تشویشناک حالت میں جناح اسپتال منتقل کیا گیا تھا جہاں زخمی شرجیل جمعرات کو دوران علاج دم توڑگیا۔
مقتول نوجوان سرجانی ٹاؤن لیاری 36 اے کا رہائشی اور پانچ بہن بھائیوں میں سب سے بڑا اور گھر کا واحد کفیل تھا ، مقتول نوجوان کی نمازجنازہ بعد نمازعصرسرجانی ٹاؤن میں گھر کے قریب ادا کی گئی بعدازاں مقتول نوجوان کو مقامی قبرستان میں آہوں اور سسکیوں میں سپرد خاک کردیا گیا ۔
مقتول کے رشتہ داروں اور محلے داروں نے بتایا کہ مقتول شرجیل ایم پی جی سلنڈرکی دکان میں کام کرتا تھا بدھ کو نامعلوم مسلح ملزمان دکان میں ڈکیتی کرکے فرار ہو رہے تھے جس پر شرجیل اور دیگر دکاندار ڈاکوؤں کو پکڑنے کے لیے ان کے پہچھے دوڑے اور کچھ فاصلے پر شرجیل نے ایک ڈاکو کوپکڑنے کی کوشش کی اس دوران ایک ڈاکو سے پستول بھی گرگیا جس پر ڈاکو نے پستول اٹھا کر فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں شرجیل اوراسٹیٹ ایجںٹ عبدالعظیم زخمی ہو گیا ،مقتول کے اہلخانہ اورعلاقہ مکینوں کا کہنا تھا کہ ڈکیتوں نے جینا مشکل کردیا ہے اورہرچند روزکے بعد نوجوانوں کی لاشیں اٹھا اٹھا کرتھک گئے ہیں،۔
رواں سال ڈکیتی کی وارداتوں کے دوران مزاحمت پر جاں بحق ہونے والے شہریوں کی تعداد 14 ہو گئی ہے جبکہ 50 سے زائد افراد زخمی ہو چکے ہیں۔
