Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
کسی بھی غیر جمہوری اقدام کا مقابلہ کریں گے , بلاول | زرائع نیوز

کسی بھی غیر جمہوری اقدام کا مقابلہ کریں گے , بلاول

اسلام آباد : وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اگر کوئی غیر جمہوری قدم اٹھایا گیا تو ہم خاموش نہیں رہیں گے، جہاں سے بھی لگا کہ آئین کو خطرہ ہے اس کا مقابلہ کریں گے۔ پارلیمنٹ ہاؤس لان کی دیوار جمہوریت پر 1973 کے آئین کی گولڈن جوبلی جشن کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ گولڈن جوبلی تقریبات میں کمیونٹیز کو موقع دیں گے کہ وہ بھی تقریبات میں شریک ہوں، پاکستان پیپلز پارٹی ہمیشہ غیر آئینی اقدامات کے خلاف رہی ہے اور آئندہ بھی رہے گی۔

انہوں نے کہا کہ ضیاء، مشرف کا دور ایک امتحان تھا، ہمارے ووٹ کے حق، عوام کے پیٹ اور جیب پر ڈاکا مارا گیا، جس وقت سے گزر رہے ہیں یہ بھی امتحان ہے, اگر اس امتحان میں پاس ہوتے ہیں تو ہماری کامیابی ہے، اگر ناکام ہوتے ہیں تو ملک کا نقصان ہوگا، عمران خان کے دور میں جو نقصان ہو رہا تھا وہ اب نہیں ہو رہا، سیاسی مخالفین کو جیلوں میں ڈالا گیا، اس وقت ہمارا نظام اور آئین خطرے میں تھا, پورا سال گولڈن جوبلی منائیں گے، چاروں صوبوں میں تقریبات منعقد کی جائیں گی، آئین رول آف گیمز طے کرتا ہے، آئین پر عمل کرنے کےلیے سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، آئین کی سر بلندی کےلیے اپوزیشن کو بھی اپنا جمہوری کردار ادا کرنا ہوتا ہے، غیر ذمہ دارانہ اپوزیشن نے انتہا پسندی کا کردار ادا کیا ہے، اسی لیے وہ آج اسمبلی کے رکن بھی نہیں رہے ہیں۔

بلاول نے کہا کہ ملک جس بحران سے گزر رہا ہے پہلے کبھی ایسا نہیں تھا، سیاسی جماعتوں کو ایک کم از کم مشترکہ ایجنڈے پر راضی ہونا ہوگا، ایک بنیادی کوڈ آف کنڈکٹ کےلیے پیپلز پارٹی تمام سیاسی جماعتوں سے رابطہ کرے گی، ہم ان جماعتوں سے بھی رابطہ کریں گے جنہیں ہم پسند کرتے ہیں یا نہیں، ہم طے کریں گے کہ ہم پارلیمان کے اندر اور باہر کیسے ایک دوسرے کے ساتھ چلیں گے، اگر سب یہ طے کرلیں کہ نہ کھیلوں گا نہ کسی کو کھیلنے دوں گا تو ملک نہیں چل سکتا۔ ہم سب کو ملک کےلیے اکٹھے ہونا ہے، اگر ہم اکٹھے نہ ہوئے تو حالات کو سنبھالنا مشکل ہے۔