اسلام آباد؍ انقرہ؍ دمشق: ترکیہ اور شام میں زلزلے سے مرنے والوں کی تعداد 40 ہزار تک پہنچ گئیں ۔
پاک فوج کی اربن اور سرچ ٹیموں کا ترکیہ میں امدادی آپریشن جاری ہے۔مختلف آپریشنز کے دوران138 نعشوں،8 افراد کو زندہ ملبے سے نکالا جبکہ5 زندہ افراد کی نشاندہی کی۔
ترکیہ کے صوبے ادیامان میں مجموعی طور پر پاکستان آرمی کی اربن سرچ اور ریسکیو ٹیموں نے 91مقامات پرسرچ آپریشن جبکہ 39 مقامات پر ریسکیو آپریشن کئے۔
اب تک کی امدادی سرگرمیوں میں پاک فوج کی ریسکیو ٹیموں نے 2 سائٹس کو مکمل طور پر کلیئر کر لیا ہے۔پاکستان کمیونٹی فرانس کی طرف سے35 ہزار یورو ترکیہ کی سفیر کو زلزلہ متاثرین کی مدد کے لئے دیا گیا۔
سفیر پاکستان عاصم افتخار احمد کی قیادت میں ترکیہ کی یونیسکو میں سفیر سے ملاقات کی۔شاہ سلمان ریلیف سنٹرکے جنرل سپروائزر عبداﷲ الربیعہ نے کہا ہے کہ زلزلے سے متاثرہ افراد کی مدد کو ہفتوں اور شاید مہینوں تک جاری رکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ اس سانحے سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا سعودی عرب زلزلہ سے متاثرہ افراد کے لئے3 ہزار عارضی عمارتیں تعمیر کرے گا۔ سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے بتایا ہے کہ زلزلے کے بعد سے 391 امدادی ٹرک سرحدی گزرگاہوں سے شمال مغربی شام میں داخل ہوئے ہیں۔
اقوام متحدہ کا 22 ٹرکوں پر مشتمل پہلا امدادی قافلہ ترکیہ اور شمالی شام میں حزب اختلاف کے دھڑوں کے زیر کنٹرول علاقوں کے درمیان باب السلامہ سرحدی گزرگاہ سے داخل ہوا۔
ہالینڈ نے زلزلہ متاثرین کی خوراک، پانی، ادویات اور پناہ گاہ کی ضروریات کے لئے اضافی 10 ملین یورو دینے کا اعلان کیا ہے۔
