ایم کیو ایم کے ڈیجیٹل میڈیا ونگ کی نگرانی کرنے والے متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے سینئر ڈپٹی کنونیئر مصطفیٰ کمال کی کراچی سے تعلق رکھنے والے نوجوان بلاگر اور سوشل میڈیا انفلوئنسرز سے ملاقات ہوئی۔
یہ ملاقات پاک سرزمین کے سابق مرکز پاکستان ہاؤس میں ہوئی جس میں کراچی سے تعلق رکھنے والے 10 ذہین اور ہونہار بلاگرز / سوشل میڈیا انفلوئنسرز نے شرکت کی۔
ملاقات میں عادی میمن، اتبان حنیف، حماد اللہ، مبشر محمود، حافظ راحت اسامہ، سحر حسن، سنینا اور طیب میمن شامل تھے۔
اس ملاقات میں بلاگرز اور سوشل میڈیا انفلوئنسرز نے عوامی سطح پر ایم کیو ایم کے دھڑوں کے انضمام، مستقبل اور ماضی کے حوالے سے کاٹ دار سوالات کیے۔
کراچی کے بلاگرز کا سابق میئر سید مصطفیٰ کمال کے ساتھ کراچی کے حالات و سیاست کے متعلق سوال و جوابات کا سیشن
سوالات زیادہ اور وقت کم تھا،
اس لئے ملاقات
To be continued….
ہے @KamalPSP pic.twitter.com/WG8NSDHS5e— 🪩سَــــــرپھِـــــری (@sarphireee) March 11, 2023
ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ انضمام کے بعد انہیں تنقید کا سامنا تو رہا مگر یہ قدم انہوں نے قوم کے بہتر مستقبل اور مفاد میں اٹھایا جس کا نتیجہ آنے والے وقتوں میں ضرور سامنے آئے گا۔
مصطفیٰ کمال نے بلاگرز کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے عمران خان اور اُن کے طرز سیاست پر شدید تنقید بھی کی اور اُن کے حالیہ بیانات پر متعلقہ اداروں سے نوٹس لینے کا مطالبہ بھی کیا۔
ایم کیو ایم کے سینئر ڈپٹی کنونیئر نے بلاگرز اور سوشل میڈیا انفلوئنسرز سے استدعا کی کہ وہ کراچی کے مسائل سے دنیا کو آگاہ کریں اور انہیں سوشل میڈیا پر اجاگر کریں۔
مصطفیٰ کمال نے بلاگرز کو کہا کہ وہ مردم شماری کے لوگوں میں شعور بیدار کرنے کیلیے بھی اپنا کردار ادا کریں کیونکہ جب درست تعداد آئے گی تو حقوق بھی ملیں گے۔
بلاگرز میٹ اپ: کراچی کے انفلوئنسرز نے خود کو پھر مہمان نواز ثابت کردیا
سوشل میڈیا انفلوئنسر اور بلاگر طیب میمن نے ذرائع نمائندے سے گفتگو میں بتایا کہ ’مصطفیٰ کمال سے ملاقات میں کراچی کے حوالے سے بات ہوئی اور لوگوں کے ذہن میں جو مخمصہ تھا، اُس پر کھل کر سوالات ہوئے، جن کو انہوں نے کلیئر کرنے کی کوشش بھی کی‘۔
Another bloggers meetup, it is always pleasure to meet my bloggers community ❤️
Thank you so much for coming. You people are love! pic.twitter.com/CdZLCQ7fPL— Kainat Farooq (@KainatFarooq_) March 11, 2023
کائنات فاروق کے مطابق مصطفیٰ کمال نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ’ہم نے ایک بہت بڑا قدم قوم کی خاطر اٹھایا، جس سے شاید لوگ ناراض ہوئے اور اپنا دشمن سمجھنے لگے مگر یہ قدم درحقیقت اُن کے وسیع تر مفاد میں ہی تھا جبکہ وہ یہ بھی جانتے تھے کہ انضمام کی باتیں کرنے سے عوامی سطح پر اُن کے لیے مفی تاثر پیدا ہورہا ہے مگر قوم کیلیے ان باتوں پر دھیان نہیں دیا اور بغیر پرواہ کراچی کے مفاد کیلیے فیصلہ کیا‘۔
مصطفیٰ کمال نے بلاگرز کو بتایا کہ ’ایم کیو ایم سے انضمام کسی دباؤ کی صورت میں نہیں ہوا بلکہ قوم کے وسیع تر مفاد کی خاطر ہوا، اگر دباؤ میں فیصلہ کیا جاتا تو شاید پی ایس پی ، پی ٹی آئی میں ضم ہوجاتی کیونکہ اس کے دباؤ کا سامنا بھی ماضی میں رہا تھا مگر ایسا ممکن نہیں تھا کیونکہ پی ٹی آئی سیاسی جماعت نہیں ہے‘۔
اس ملاقات میں کراچی کے اسٹریٹ کرائم، پیپلزپارٹی کے ساتھ معاہدے، حکومتی اتحاد اور ماضی کی ایم کیو ایم کے حوالے سمیت کئی سوالات پر بھی گفتگو ہوئی۔ کچھ بلاگرز نے مصطفیٰ کمال سے ماضی کی ایم کیو ایم سے متعلق بھی بہت سارے سخت سوالات بے باکی کے ساتھ کیے جس کا انہوں نے بڑے تحمل کے ساتھ جواب دیا۔ ( کچھ جوابات کو آف دی ریکارڈ گفتگو ہونے کی وجہ سے انہیں خبر کا حصہ نہیں بنایا جاسکتا)۔
Meet-up of Karachi bloggers and influences with @KamalPSP pic.twitter.com/1yzXU69KLX
— Tayyab Memon (@TayyabMemon) March 11, 2023
واضح رہے کہ اس سے قبل پانچ فروری کو مذکورہ بلاگرز نے بیرون شہر سے آنے والی خاتون بلاگر سے ملاقات کیلیے ایک پروگرام طے کیا اور پھر خود کو مہمان ثابت کیا تھا، جس کی سب سے پہلے اسٹوری ذرائع نیوز نے ہی شائع کی تھی، اس کے بعد پھر دیگر اداروں نے اس خبر کی اہمیت کو دیکھتے ہوئے اپنی ویب سائٹ پر جگہ دی۔
