Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
میٹ اپ: بلاگرز کے مصطفیٰ‌ کمال سے کاٹ دار سوالات | زرائع نیوز

میٹ اپ: بلاگرز کے مصطفیٰ‌ کمال سے کاٹ دار سوالات

ایم کیو ایم کے ڈیجیٹل میڈیا ونگ کی نگرانی کرنے والے متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے سینئر ڈپٹی کنونیئر مصطفیٰ کمال کی کراچی سے تعلق رکھنے والے نوجوان بلاگر اور سوشل میڈیا انفلوئنسرز سے ملاقات ہوئی۔

یہ ملاقات پاک سرزمین کے سابق مرکز پاکستان ہاؤس میں ہوئی جس میں کراچی سے تعلق رکھنے والے 10 ذہین اور ہونہار بلاگرز / سوشل میڈیا انفلوئنسرز نے شرکت کی۔

ملاقات میں عادی میمن، اتبان حنیف، حماد اللہ، مبشر محمود، حافظ راحت اسامہ، سحر حسن، سنینا اور طیب میمن شامل تھے۔

Image

اس ملاقات میں بلاگرز اور سوشل میڈیا انفلوئنسرز نے عوامی سطح پر ایم کیو ایم کے دھڑوں کے انضمام، مستقبل اور ماضی کے حوالے سے کاٹ دار سوالات کیے۔

ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ انضمام کے بعد انہیں تنقید کا سامنا تو رہا مگر یہ قدم انہوں نے قوم کے بہتر مستقبل اور مفاد میں اٹھایا جس کا نتیجہ آنے والے وقتوں میں ضرور سامنے آئے گا۔

مصطفیٰ کمال نے بلاگرز کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے عمران خان اور اُن کے طرز سیاست پر شدید تنقید بھی کی اور اُن کے حالیہ بیانات پر متعلقہ اداروں سے نوٹس لینے کا مطالبہ بھی کیا۔

Image

ایم کیو ایم کے سینئر ڈپٹی کنونیئر نے بلاگرز اور سوشل میڈیا انفلوئنسرز سے استدعا کی کہ وہ کراچی کے مسائل سے دنیا کو آگاہ کریں اور انہیں سوشل میڈیا پر اجاگر کریں۔

مصطفیٰ کمال نے بلاگرز کو کہا کہ وہ مردم شماری کے لوگوں میں شعور بیدار کرنے کیلیے بھی اپنا کردار ادا کریں کیونکہ جب درست تعداد آئے گی تو حقوق بھی ملیں گے۔

بلاگرز میٹ اپ: کراچی کے انفلوئنسرز نے خود کو پھر مہمان نواز ثابت کردیا

سوشل میڈیا انفلوئنسر اور بلاگر طیب میمن نے ذرائع نمائندے سے گفتگو میں بتایا کہ ’مصطفیٰ کمال سے ملاقات میں کراچی کے حوالے سے بات ہوئی اور لوگوں کے ذہن میں جو مخمصہ تھا، اُس پر کھل کر سوالات ہوئے، جن کو انہوں نے کلیئر کرنے کی کوشش بھی کی‘۔

کائنات فاروق کے مطابق مصطفیٰ کمال نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ’ہم نے ایک بہت بڑا قدم قوم کی خاطر اٹھایا، جس سے شاید لوگ ناراض ہوئے اور اپنا دشمن سمجھنے لگے مگر یہ قدم درحقیقت اُن کے وسیع تر مفاد میں ہی تھا جبکہ وہ یہ بھی جانتے تھے کہ انضمام کی باتیں کرنے سے عوامی سطح پر اُن کے لیے مفی تاثر پیدا ہورہا ہے مگر قوم کیلیے ان باتوں پر دھیان نہیں دیا اور بغیر پرواہ کراچی کے مفاد کیلیے فیصلہ کیا‘۔

Image

مصطفیٰ کمال نے بلاگرز کو بتایا کہ ’ایم کیو ایم سے انضمام کسی دباؤ کی صورت میں نہیں ہوا بلکہ قوم کے وسیع تر مفاد کی خاطر ہوا، اگر دباؤ میں فیصلہ کیا جاتا تو شاید پی ایس پی ، پی ٹی آئی میں ضم ہوجاتی کیونکہ اس کے دباؤ کا سامنا بھی ماضی میں رہا تھا مگر ایسا ممکن نہیں تھا کیونکہ پی ٹی آئی سیاسی جماعت نہیں ہے‘۔

Image

اس ملاقات میں کراچی کے اسٹریٹ کرائم، پیپلزپارٹی کے ساتھ معاہدے، حکومتی اتحاد اور ماضی کی ایم کیو ایم کے حوالے سمیت کئی سوالات پر بھی گفتگو ہوئی۔ کچھ بلاگرز نے مصطفیٰ کمال سے ماضی کی ایم کیو ایم سے متعلق بھی بہت سارے سخت سوالات بے باکی کے ساتھ کیے جس کا انہوں نے بڑے تحمل کے ساتھ جواب دیا۔ ( کچھ جوابات کو آف دی ریکارڈ گفتگو ہونے کی وجہ سے انہیں خبر کا حصہ نہیں بنایا جاسکتا)۔

واضح رہے کہ اس سے قبل پانچ فروری کو مذکورہ بلاگرز نے بیرون شہر سے آنے والی خاتون بلاگر سے ملاقات کیلیے ایک پروگرام طے کیا اور پھر خود کو مہمان ثابت کیا تھا، جس کی سب سے پہلے اسٹوری ذرائع نیوز نے ہی شائع کی تھی، اس کے بعد پھر دیگر اداروں نے اس خبر کی اہمیت کو دیکھتے ہوئے اپنی ویب سائٹ پر جگہ دی۔