کراچی: سندھ ہائیکورٹ نے شوہر کے بعد بیٹے کی گمشدگی سے متعلق درخواست پر 6 ہفتوں میں جے آئی ٹی رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیدیا۔
جسٹس نعمت اللہ پھلپھوٹو کی سربراہی میں دو رکنی بینچ کے روبرو شوہر کے بعد بیٹے کی بھی گمشدگی سے متعلق درخواست کی سماعت ہوئی۔ درخواستگزار بشیراں خاتون نے بتایا کہ شوہر پٹھان ظہورانی کو 4 سال پہلے لاپتہ کیا گیا۔
اب بیٹے عرفان علی ظہورانی کو بھی اٹھا لیا گیا۔ 4 سال سے دھکے کھا رہے ہیں۔ شوہر کے بعد بیٹے کو بھی لاپتہ کردیا گیا۔ میرے بیٹے اور شوہر کا قصور تو بتائیں کیا ہے۔ تفتیشی افسر نے بتایا کہ سی ڈی آر کے لیے خط لکھ دیا ہے۔ اب یہ کہہ رہے ہیں کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے حراست میں لیا۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی خطوط لکھ رہے ہیں۔ جسٹس نعمت اللہ پھلپھوٹو نے ریمارکس دیئے کہ ڈی آئی جی انوسٹی گیشن ذاتی دلچسپی لیں۔
ایس پی سطح کے افسر سے تحقیقات کروائی جائیں۔ عدالت نے پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو 6 ہفتوں میں جے آئی ٹی رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیدیا۔
علاوہ ازیں سندھ ہائیکورٹ نے ایم کیو ایم کارکن ارسلان الدین کی بازیابی سے متعلق درخواست پر تفتیشی افسر کو 3 ہفتوں میں پیش رفت رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے جے آئی ٹی ترتیب دینے کا حکم دیدیا۔
جسٹس نعمت اللہ پھلپھوٹو کی سربراہی میں دو رکنی بینچ کے روبرو ایم کیو ایم کارکن ارسلان الدین کی بازیابی سے متعلق درخواست کی سماعت ہوئی۔ درخواستگزار کے وکیل نے موقف دیا کہ 30 سالہ ارسلان الدین ٹنکی گراؤنڈ ایف سی ایریا کے قریب سے لاپتہ ہوا۔ 5 مئی 2000 سے لاپتہ ہوا، مگر اب تک کچھ پتہ نہیں چلا۔
عدالت نے ریمارکس دیئے کہ ارسلان الدین کی بازیابی کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں۔ عدالت نے تفتیشی افسر کو 3 ہفتوں میں پیش رفت رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کردی۔ عدالت نے جے آئی ٹی بھی ترتیب دینے کا حکم دے دیا۔
