نیویارک: سائنسدانوں نے جیمزویب ٹیلی سکوپ کی نئی دریافتوں کو حوصلہ افزا قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے جلد ہی ہم سیاروں میں بسی کسی اور مخلوق اور زندگی کے آثار کے بارے میں جان سکیں گے۔
ناسا کے سائنسدانوں مطابق جیمز ویب کو 120 نوری سال کے فاصلے پر موجودکے ٹو18بی نامی سیارے پر ایک ایسی گیس کی موجودگی کا پتہ چلا ہے جو عام طور پر زمین پر سمندر میں موجود جاندار پیدا کرتے ہیں۔
ناسا کے سائنسدانوں نے اس گیس کی دریافت پر دعویٰ کیا ہے کہ بہت مضبوط اشارے ہیں جس کے باعث اب کائنات میں کسی خلائی مخلوق اور زندگی کی تلاش بہت زیادہ دوری پر نہیں۔
سائنسدانوں کا کہناہے کہ یہ سیارہ اس زون میں آتا ہے جسے ماہرین فلکیات ’’گولڈی لاکس زون‘‘ کہتے ہیں، یہ وہ زون ہے جہاں ایک سیارہ اپنے ستارے سے مناسب فاصلے پر موجود ہے جس کے باعث درجہ حرارت نہ تو بہت زیادہ گرم ہوتا ہے اور نہ ہی بہت ٹھنڈا بلکہ بالکل ایسا کہ جو وہاں مائع پانی کی موجودگی یقینی بناتا ہے جو زندگی کی موجودگی کیلئے ضروری ہے۔اسکاٹ لینڈ کے ماہر فلکیات رائل نے برطانوی خبر رساں ادارے کو کو بتایا کہ ہم میں سے بہت سے لوگوں پر واضح ہو چکا ہے کہ ہم کائنات میں اکیلے نہیں اور اب ہمارے پاس اس کا جواب دینے کی ٹیکنالوجی اور صلاحیت آگئی ہے۔
سائنسدانوں نے کائینات میں خلائی مخلوق کی موجودگی کے امکان کومکمل طور پر رد نہیں کیا، جیمزویب ٹیلی سکوپ کی نئی دریافتوں کو حوصلہ افزا قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے جلد ہی ہم سیاروں میں بسی کسی اور مخلوق اور زندگی کے آثار کے بارے میں جان سکیں گے۔ جیمز ویب کو 120 نوری سال کے فاصلے پر موجودکے ٹو18بی نامی سیارے پر ایک ایسی گیس کی موجودگی کا پتہ چلا ہے جو عام طور پر زمین پر سمندر میں موجود جاندار پیدا کرتے ہیں۔
