کراچی: سوشل میڈیا پر نوجوانوں کی کراچی کو صوبہ بناؤ کے حوالے سے چلائی جانے والی مہم نے ایسا زور پکڑا کہ ایوان اور قومی اسمبلی میں بھی اس کا تذکرہ ہوا۔
سابق وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے صوبہ مانگنے والوں اور نئے صوبے کی بات کرنے والوں پر لعنت بھیجی اور کہاں تھا کہ ہم سندھ دھرتی کی تقسیم کو کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔
متحدہ اراکین اسمبلی اپوزیشن بینچوں پر بیٹھ کر تقریر سنتے رہے اور عوامی سطح پر انہوں نے عوام کو مشتعل کرنے کی ضرور کوشش کی تاہم اس دوران اُن کا کوئی حربہ کام نہ آیا۔
کراچی کے نوجوانوں نے سوشل میڈیا پر #کراچی_کو_صوبہ_بناؤ کے نام سے ہیش ٹیگ شروع کیا، یہ ہیش ٹیگ عوامی مطالبے کے طور پر اس طرح ابھر کر سامنے آیا کہ ہر شہری نوجوان، بزرگ، خواتین، بچوں نے اپنا حق مانگا۔
سوشل میڈیا پر اٹھنے والی آوازوں کے بعد سندھی قومی پرستوں اور دیگر لوگوں نے صوبہ مانگنے کو ملک توڑنے کی سازش قرار دیا، امریکا اور دیگر بیرونِ ملک بیٹھے لوگ دیارِ غیر میں بیٹھ کر دھرتی کے تحفظ کی قسم کھاتے دکھائی دیے۔
دوسری جانب مقامی افراد میں صرف اردو اسپیکنگ نہیں بلکہ سندھی، پختون، پنجابی اور دیگر کراچی میں بسنے والی قومیتوں کے لوگ تھے جنہوں نے #کراچی_کو_صوبہ_بناؤ کی آواز بلند کی۔
اہلیانِ پاکستان #کراچی_کو_صوبہ_بناؤ مہم میں کراچی کی عوام کا ساتھ دیں۔ یقیناً خوشحال کراچی ہی خوشحال پاکستان کی ضمانت ہے۔ ہمارے وطن پاکستان کی ترقی بلا شبہ ملک میں نئے صوبے بننے سے مستحکم ہوگی۔
— Karachi Sooba (@KHISooba) May 28, 2018
سوشل میڈیا پر متحرک نوجوانوں کا کہنا تھا کہ آئین پاکستان کے تحت صوبہ مانگنا اور اس کا مطالبہ کرنا ہمارا آئینی اور بنیادی حق ہے اور ہم بغیر کسی سیاسی جماعت کے اپنے مشن کو جاری رکھیں گے۔
نوجوانوں نے سندھ اسمبلی میں ہونے والی متنازع تقریر پر مراد علی شاہ کو قانونی نوٹس بھی بھیجا جس کے بعد انہوں نے گزشتہ روز سندھ اسمبلی کے آخری سیشن سے خطاب کرتے ہوئے اپنے بیان پر معافی بھی مانگی۔
The honourable CM of Sindh has been served a legal notice by a common citizen of Karachi @AK_Forty7 for using derogatory remarks on demands of Karachi Province. Demanding a province is a Constitutional right of every citizen of Pakistan#کراچی_کو_صوبہ_بناؤ pic.twitter.com/Rl59osfSlW
— Karachi Sooba (@KHISooba) May 27, 2018
سوشل میڈیا پر جہاں ک#کراچی_کو_صوبہ_بناؤ مطالبہ زور پکڑتا جارہا ہے وہی مراد علی شاہ کی تقریر پر خاموشی اور ایم کیو ایم کی طرف سے مشترکہ احتجاج نہ ہونے پر صارفین تلخ سوالات کررہے ہیں اور انہوں نے واضح اعلان کردیا کہ آئندہ انتخابات میں ان فریقوں کو کسی صورت ووٹ نہیں دیں گے بس جو صوبے کے لیے اقدامات کرے گا ووٹ اسی کو دیں گےٗ۔
خبر کو عام عوام تک پہنچانے میں ہمارا ساتھ دیں، صارفین کے کمنٹس سے ادارے کا کوئی تعلق نہیں ہے۔
